سلام اور دعائیں
احبابِ مکرم ۔ ۔ بہت کچھ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ہر روز ہو رہا ہے ۔ ۔ عبادات کی کثرت ہے کہیں تو خرافات کی حسرت ہے کہیں ۔ ۔ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ۔
رحمتوں کا نزول بھی ہو رہا ہے اور زحمتیں سمیٹنے کی بھی ہم کوئ کسر نہیں چھوڑ رہے۔ لیکن آج ذکر صرف کریم اللہ کی پے پایاں
رحمت کا ۔ ۔ ۔
رمضاں کریم کے توسط سے ربِ ذوالجلال کی فیوضیات کا بحرِ بیکراں ہے ۔ خوش قسمت سیراب ہو رہے ہیں، ہر لمحہ عید ہے، ہر گھڑی نور ہے اور ہر متقی مسرور ہے۔
کل شام گالف کے لیئے نکلے تو موسمی ایپ نے بتلایا کہ چلچلاتی گرمی کا توڑ نہیں بس ذرا دھندلاہٹ ہو سکتی ہے لیکن بارش نہ نہ۔۔
لیکن قادرِ مطلق تو صدیوں سے فیصلہ سنا چکا ہے کہ ’بارش وہی برساتا ہے‘ (لقمان۔34)۔اور پھر بارش برسانے والے عزوجل نے جل تھل کر دیا۔ دو گھنٹے جنرل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے ہوے باری تعالی کی نعمت کا نظارہ کرتے ہوے گذر گئے۔ (اور تم اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاو گے؟)۔
شکر ہے خداوندا، انکسار قائم ہے
ہم نیاز مندوں کا اعتبار قائم ہے
ایسے خشک موسم میں، تیری ہی عنائت سے
گلشنِ تمنا کا کاروبار قائم ہے
اور ۔ ۔ ۔
اے عالمِ نجوم و جواہر کے کردگار
پنہاں ہے کائنات کے ذوقِ نمو میں تُو
تیرے وجود کی ہے گواہی چمن چمن
ظاہر کہاں کہاں نہ ہوا ، رنگ و بُو میں تُو
اکثر یہ سوچتا ہوں کہ موجِ نفس کے ساتھ
شہہ رگ میں گونجتا ہے لہو؟ یا لہو میں تُو
اور کیا تم عقل نہیں رکھتے؟؟؟؟
AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
No comments:
Post a Comment