سلام و دعا ۔ ۔ ۔
جہاں کہیں ایمان کی شمع روشن ہے، ارضِ وطن کے لیے تڑپ ہے اورمستقبل کے لیے خدشات ہیں ۔ وہاں
یکسو ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ شاید اب ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘، کا وقت ہے۔ دیمک جو اِس وطنِ عزیز کو کو ستر سال سے کھوکھلا کر رہی ہے اُسے ہمیشہ کے لیے زمین بُرد ہونا ضروری ہے ۔
ہر خائن، مکار اور کذاب نا اہل ہے اور اُسے یوں ہی قرار دیا جانا چاہیے۔
جائدادوں کی جو قیمت ظاہر کی گئی ہے، اس کا تعین کمرشل بنیادوں پر کرا کے اِسی جھوٹ کی بنیاد پہ حلفا غلط بیان کرنے والوں کو الیکشن لڑنے سے روک دیا جاے۔ انکی خود بیان کردہ قیمت سے چار گنا زیادہ ادائگی کر کے سب بحقِ سرکار ضبط ہو اور پھر نیلامِ عام سے قیمت وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع ہو۔
ضمیر فروشی جرم ہے اور مجرموں کو سزا ملنی چاہیے اور اُن سے قطع تعلق ضروری ہے۔
ووٹ کو عزت دینے والوں کی ایک نمائندہ جس طریقے سے ایک بزرگ ووٹر پر ایک قانوں دان کی موجودگی میں تشدد کر رہی ہے (وڈیو سوشل میڈیا پر)، اس پر نوٹس لیا جاے۔ ووٹر کی عزت کو تار تار کرنے والوں پر لعنتِِ بسیار اور خدا کی مار ۔
مکمل صفائ کے لیے ۱۹۴۸ سے لے کر اب تک تمام ملزمین و مجرمین کو مردہ یا زندہ (بغیر کسی تفریق کے) کٹہرے میں لایا جاے اور قرار واقعی سزائیں دی
جائیں۔
نئے نظام کی ضرورت کو محسوس کیا جاے اور پر خلوص سفارشات مرتب کی جائیں تاکہ لوٹا گیری، ضمیر فروشی، اجارہ داری، نسلی تسلط اور جبر کو ختم کیا جا سکے۔
وفاداری صرف وطن سے، اشخاص سے خلوص صرف اس شرط پر کہ وہ ملک کے خیر خواہ ہوں ورنہ ’ست سلام‘۔
راے کا اظہار ضرور فرمایئے گا۔
AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
No comments:
Post a Comment