AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Friday, May 27, 2022

2:05 PM

A Page From President Ayub's Diaries . . .

When Governor West Pakistan Malik Amir Muhammad Khan resigned, 'Military Ruler' Ayub Khan appointed Gen M. Musa Khan as the new Governor ... His instructions in writing to the new Governor are worth a thought  .... Wish 'Democratic Despots' too had similar vision.




Lets go straight to the subject.

1.    Be Fair, Just and Firm. 
2.    See that the Administrative Organs that are created function properly. In other words, instead of the Administration being personal, Institutionalise it. In other words give directive to the Ministers and the Officials and see that they carry them out.

 3.    Some departure is sometimes necessary, but by and large don't allow the Administration to be used for political ends or interfered with. 

4.    Encourage good people, but don't hesitate to go for those who are not pulling their weight. 

5.    Allow autonomous bodies freedom to operate within their charter, but carry out personal supervision constantly to ensure optimum efficiency.

6.    Get to know the background of the Ministers, and Public Men and their mutual relationship. Don't allow anyone to mislead you. When in doubt check up with some reliable and knowledgeable people or with me. 

7.    Allow the relationship between the central and provincial ministers to operate on institutional basis, so that the coordination of effort and implementation policy is constant and natural amongst them. 

8.    A large number of people would want to see you. You can't always fulfil their demands, but if you listen patiently, they will get some satisfaction. Be a good listener. 

9.    See your Ministers and their Secretaries on a regular basis. 

10.    Maintain good relationship with the High Court. 

11.    See that the Government cases whenever instituted are carefully prepared. This will need correct manning and supervision of the Law Ministry and Home Ministry. 

12.    Got to know the background of the opposition parties and their leaders, their intentions and activities. By and large their activities will be agitational, so a constant watch over them is necessary and so is the need to deal with them timely if they unduly transgress. They will be especially active when the EBDO is lifted. 

13.    Keep a watch on the Press and Student community. 

14.    Watch Sectarianism. 

15.    See that the Administration is development oriented and assigned to promote progress. Quick decisions and implementation necessary. 

16.    Industries in private sector should be broad-based and diversified. Emphasis on industrialisation, increased agriculture output, and family planning. 

17.    Study literature on reforms and organisational matters. Have a knowledge of the Constitution. Know something about preventive laws.  

   

 HAVE A NICE READ ...

مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے

کچھ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم



  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Monday, May 2, 2022

12:55 PM

ڈھونڈھ اُسے بدلتی رُتوں میں - -




ماحولیات کی وزیر صاحبہ کا ٹویٹ پڑھنے کو ملا جہاں انہوں نے مئی میں گرمی کی شدید لہر سے خبردار

 کیا ہے۔  یہ رُتیں بھی عجیب ہیں۔۔ ابھی تو چند ہفتے پہلے یخ بختہ ہواوں کا راج تھا اور اب یہ لہرِ نارِ رواں۔ 

یہی تو فطرت کی خوبصورتی ہے، یہی گردشِ ایام ہے، کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں۔ 

کبھی کپکپاتا جاڑا اور کبھی آگ اُگلتا ہاڑ۔ 

کبھی کھلے پھولوں کی بہار اور کبھی سوکھے ہوے پتوں کی پھوار۔ 

اور اس سب میں نہ کسی  کی جیت نہ کسی کی ہار۔


یہ صرف اور صرف زندگی اور زندگی کی زندگی کا نام ہے۔

‎ اس چکر کے اندر نہ کوئی فاتح  نہ مفتوح، صرف مراحل، جن سے گزرنا ضروری ہے۔  


ہم انسان اگر یہ نقطہ سمجھ لیں تو نہ طاقت و شان و شوکت کے لمحات میں فرعون بن بیٹھیں اور نہ مشکلیں ہمیں غلام اور ناشکرگذار بنا سکیں کیونک ثبات دونوں کو نہیں ہے گذر دونوں نے جانا ہے۔ 

یونہی سلسلہِ شب و روز و تغیرات زمانہ نے جاری و ساری رہنا ہےجب تک کہ وہ وقت نہ آ پہنچے جب “الیوم نختم علی افواھہم”  ہو گا۔ 


بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم

برے یا بھلے سب زمانے ترے



  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Saturday, February 5, 2022

5:36 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط ہشتم

گذشتہ سے  پیوستہ ۔ ۔ ۔


اِرشادِ ربانی ہے :۔
قسم ہے وقت کی انسان یقینا گھاٹے میں ہے

اور فرمایا:۔

 تحقيق آدم بڑا ظالم اور جاہل ہے

حضورِ پاک ﷺ نے فرمایا:۔

الله پاک نے مخلوق کو تاریکی میں  پیدا فرمایا پھر اُس پر نُور ڈالا

 

پس ایک پردہ انسان کی جبلت میں ہے جو مزاج اور جبلت کے مطابق حائل ہوتا ہے۔ لامحالہ انسان جہالت پسند ہے اور حجاب کا دلدادہ کہ جمالِ کشف سے بے خبر رہتا ہے۔


تحقيق الله کریم کے بھیدوں سے انکار کرنے والا چوپایوں جیسا ہے، توحید کی خوشبو سے نا آشنا، اللہ کریم کی واحدانیت کے جمال سے محروم اور مشاہدہ سے نالاں  اللہ کی رضا کو چھوڑ کر دنیا کے مرض میں مبتلا  ہو جانے والا ۔


حقیقی زندگی سے دور نفسِ حیوانی سے مغلوب رہنے والے کی تمام طلب حیوانیت تک ہی محدود ہو جاتی ہے۔خواہشات و شہوات کے علاوہ  ہر چیز سے بے خبر رہتا ہے۔ 


اللہ کریم نے اپنے بندوں کو اِن تمام سے بچنے کا حکم دیتے ہوے فرمایا ہے:۔

اے پیغمبر ﷺ ان کو چھوڑ دیجیے یہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور اپنی آرزووں کو طول دیں، عنقریب یہ جان جائیں گے

ان  کی نگاہوں سے اللہ تعالی کے رازوں کو پوشیدہ کر دیا گیا ہے۔ عنایت و توفیق کے بجاے ان کے نصیب میں خواری آ گئی اور یہ نفسِ امارہ کے فرماں بردار ہیں اور نفسِ امارہ ایک بڑا پردہ ہے، برائ اور بدئ کا سر چشمہ۔ 


اللہ کریم کا ارشاد ہے:۔

تحقيق نفسِ امارہ برائ کی ترغیب دیتا ہے

الله کریم غور و فکر و تعلیم و مشاہدہ کی توفيق عطا فرماے۔ آمین



اے گلِ فقر کی مہک روحِ فقیر میں دہک

اور صدا لگاے جا، یار نہیں تو کچھ نہیں  

جاری ہے ۔ ۔ ۔  

  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Friday, January 21, 2022

5:54 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط ہفتم

گذشتہ سے  پیوستہ ۔ ۔ ۔



۔(کشف المحجوب) ۔ ۔ ۔ ۔۔ خدا تمھیں سمجھ دے تو سمجھ کہ میں نے دنیا کو خداوندی رازوں کا مقام پایا۔ موجودات کو اس کی عطا کا امین سمجھا اور وہ اشیاء جن کا وجود ثابت ہے انہیں  اُس کے دوستوں کے حق میں لطائف کا حامل دیکھا۔ جوہر، عرض، اجرام، اجسام اور طبائع سب یعنی رازوں کے لئے پردہ ہیں۔ مقامِ توحید میں اِن چیزوں کے لئے الجھنا شرک کے برابر ہے

الله تعالى نے اس دنیا کو پردہ در پردہ رکھا ہے۔ ہر طبیعت اپنی طاقت کے مطابق سکون حاصل کرتی ہے اور اپنے اوپر توحید کی طرف سے پردہ گرا لیتی ہے۔

اس دنیا میں انسانی وجود سے رفاقت کی وجہ سے روحیں بھی مغرور ہو کر اپنے رب کا قرب حاصل کرنے اور انسانی جسم سے نجات پانے سے محروم ہیں۔ اللہ تعالی کے راز عقل و سمجھ کے لئے مشکل ہو جاتے ہیں اور اللہ کے قرب کی لطافتیں چھپ جاتی ہیں۔ آدمی اپنی غفلت کے اندھیروں کی وجہ سے اپنی ہی ہستی میں الجھ جاتا ہے اور خصوصی درجات کے معاملے میں اپنے حجابوں میں کھو جاتا ہے۔


بیاں میں نکتہِ توحید آ  تو سکتا ہے

ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے

 

مقامِ فقر ہے کتنا بلند شاہی سے

روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے


جاری ہے ۔ ۔ ۔  

  


  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Friday, January 14, 2022

4:16 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط ششم

گذشتہ سے  پیوستہ ۔ ۔ ۔




حضرت علی ہجویری رحمه الله کشف المحجوب میں مزید فرماتے ہیں :۔

الله پاک نے ہمیں ایسے لوگوں میں  پیدا کیا جو ہوا و ہوس کو شریعت کہتے ہیں جبکہ شان و شوکت و حکومت کی محبت اور تکبر کو علم کا نام دیتے ہیں۔ ریاکاری کو خوفِ خدا، دل میں موجود کینے کو حلم و بردباری کہتے ہیں۔ لڑائ کو مناظرہ، جنگ و حماقت کو عظمت، منافقت کو زہد، ہوس کو سلوک اور 
ہذیانِ طبع کو معرفت والے دل کی دھڑکن کہتے ہیں۔

 

نفس کی تاویلات کو حجت،  الحاد کو فقر، انکار کو تزکیہ، زندقہ و بے دینی کو فنا کہتے ہیں۔ حضور نبی 

کریم ﷺ  کی شریعت کو چھوڑ دینے کو طریقت اور زمانے میں آفت پھیلانے کو معاملت سمجھتے  

ہیں۔ یہاں تک کہ اہلِ حقیقت مغلوب ہو کر رہ گئے ہیں اور جاہل ہر طرف چھا گئے ہیں۔

 

حضرت ابوبكر الواسطی رحمه الله نے کیا خوب کہا ہے :۔

۔"ہم ایسے زمانے میں ہیں جس میں آدابِ اسلام ہیں نہ زمانہِ جاہلیت جیسے اخلاق اور نہ ہی مردم شناسی باقی ہے"۔

 



جاری ہے ۔ ۔ ۔  

  


  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Saturday, January 8, 2022

1:51 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط پنجم

گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔

عوام اِس صورتِ حال کو پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم حق شناس ہیں۔ خواص خوش ہیں کیونکہ وہ دل میں اِسی صورتِ حال کی خواہش رکھتے ہیں، اُن کے نفس میں حاجت اور سینے میں میلان ملتا ہے۔ وہ اپنے اِن (ریاکارانہ اور خود غرضانہ) مشاغل کو مولا کریم کے دیدار اور محبت کی آگ سے تعبیر کرتے ہیں۔

مدعی (یہ بہروپئیے) خود اپنے دعوے کی وجہ اور مطالب سے محروم ہوتے ہیں۔ اور اِن کے مریدوں نے مجاہدے اور نفس کشی سے منہ پھیر لیا ہے۔بے کار وہم و خیال کا نام مشاہدہ یعنی دیدارِ الہی رکھ لیا گیاہے۔

اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم کھوئ ہوئ عظمتوں کی طرف واپس چلیں ( جس کے لئے حصولِ علم، بردباری و حلم، نفئِ ذات، ہمہ وقتی خوفِ الہی، تقوی، ادائیگئِ فرائض اور سیرت وسنتِ رحمت العالمین ﷺ کی پیروی نہایت ضروری ہیں)۔


الله کریم غور و فکر و توفيق عطا فرماے ۔ آمين


جاری ہے ۔ ۔ ۔ 



    AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Saturday, January 1, 2022

4:22 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط چہارم

 گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ 


کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب (آسمانی) ملی تھی پھر ان پر مدت لمبی ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔

حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش رحمہ اللہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں :۔

ہمارے  زمانے میں تصوف کے علم کی حقیقت کھوکھلی ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ لوگ حرص و ہوس کا شکار ہیں اور تسلیم و رضا چھوڑ چکے ہیں۔ علمائے زمانہ اور وقت کے دعویداروں نے طریقت کی اصل صورت بگاڑ دی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 

جس چیز کو  زمانے کا ہاتھ نہیں چھو سکا۔اور جس  سے اللہ پاک کے خاص بندوں کے سوا تمام اہلِ ارادت، طریقت سے دور ہیں۔ تمام اہلِ معرفت، معرفت سے خارج ہیں۔ خاص و عام لوگ فقط لفظی عبارت کو کافی سمجھتے ہیں۔ حقیقت کو پردوں میں رکھنے کے خواہش مند ہیں۔  تحقیق کو چھوڑ کر تقلید چاہتے ہیں (کیونکہ) تحقیق ان کی دنیا سے دور ہے۔ ۔ ۔ ۔ 
جاری ہے ۔ ۔ ۔


 ??? اَلَمْ يَاْنِ لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُـهُـمْ لِـذِكْرِ اللّـٰهِ 



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxT

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/