AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Friday, January 21, 2022

5:54 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط ہفتم

گذشتہ سے  پیوستہ ۔ ۔ ۔



۔(کشف المحجوب) ۔ ۔ ۔ ۔۔ خدا تمھیں سمجھ دے تو سمجھ کہ میں نے دنیا کو خداوندی رازوں کا مقام پایا۔ موجودات کو اس کی عطا کا امین سمجھا اور وہ اشیاء جن کا وجود ثابت ہے انہیں  اُس کے دوستوں کے حق میں لطائف کا حامل دیکھا۔ جوہر، عرض، اجرام، اجسام اور طبائع سب یعنی رازوں کے لئے پردہ ہیں۔ مقامِ توحید میں اِن چیزوں کے لئے الجھنا شرک کے برابر ہے

الله تعالى نے اس دنیا کو پردہ در پردہ رکھا ہے۔ ہر طبیعت اپنی طاقت کے مطابق سکون حاصل کرتی ہے اور اپنے اوپر توحید کی طرف سے پردہ گرا لیتی ہے۔

اس دنیا میں انسانی وجود سے رفاقت کی وجہ سے روحیں بھی مغرور ہو کر اپنے رب کا قرب حاصل کرنے اور انسانی جسم سے نجات پانے سے محروم ہیں۔ اللہ تعالی کے راز عقل و سمجھ کے لئے مشکل ہو جاتے ہیں اور اللہ کے قرب کی لطافتیں چھپ جاتی ہیں۔ آدمی اپنی غفلت کے اندھیروں کی وجہ سے اپنی ہی ہستی میں الجھ جاتا ہے اور خصوصی درجات کے معاملے میں اپنے حجابوں میں کھو جاتا ہے۔


بیاں میں نکتہِ توحید آ  تو سکتا ہے

ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے

 

مقامِ فقر ہے کتنا بلند شاہی سے

روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے


جاری ہے ۔ ۔ ۔  

  


  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Friday, January 14, 2022

4:16 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط ششم

گذشتہ سے  پیوستہ ۔ ۔ ۔




حضرت علی ہجویری رحمه الله کشف المحجوب میں مزید فرماتے ہیں :۔

الله پاک نے ہمیں ایسے لوگوں میں  پیدا کیا جو ہوا و ہوس کو شریعت کہتے ہیں جبکہ شان و شوکت و حکومت کی محبت اور تکبر کو علم کا نام دیتے ہیں۔ ریاکاری کو خوفِ خدا، دل میں موجود کینے کو حلم و بردباری کہتے ہیں۔ لڑائ کو مناظرہ، جنگ و حماقت کو عظمت، منافقت کو زہد، ہوس کو سلوک اور 
ہذیانِ طبع کو معرفت والے دل کی دھڑکن کہتے ہیں۔

 

نفس کی تاویلات کو حجت،  الحاد کو فقر، انکار کو تزکیہ، زندقہ و بے دینی کو فنا کہتے ہیں۔ حضور نبی 

کریم ﷺ  کی شریعت کو چھوڑ دینے کو طریقت اور زمانے میں آفت پھیلانے کو معاملت سمجھتے  

ہیں۔ یہاں تک کہ اہلِ حقیقت مغلوب ہو کر رہ گئے ہیں اور جاہل ہر طرف چھا گئے ہیں۔

 

حضرت ابوبكر الواسطی رحمه الله نے کیا خوب کہا ہے :۔

۔"ہم ایسے زمانے میں ہیں جس میں آدابِ اسلام ہیں نہ زمانہِ جاہلیت جیسے اخلاق اور نہ ہی مردم شناسی باقی ہے"۔

 



جاری ہے ۔ ۔ ۔  

  


  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Saturday, January 8, 2022

1:51 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط پنجم

گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔

عوام اِس صورتِ حال کو پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم حق شناس ہیں۔ خواص خوش ہیں کیونکہ وہ دل میں اِسی صورتِ حال کی خواہش رکھتے ہیں، اُن کے نفس میں حاجت اور سینے میں میلان ملتا ہے۔ وہ اپنے اِن (ریاکارانہ اور خود غرضانہ) مشاغل کو مولا کریم کے دیدار اور محبت کی آگ سے تعبیر کرتے ہیں۔

مدعی (یہ بہروپئیے) خود اپنے دعوے کی وجہ اور مطالب سے محروم ہوتے ہیں۔ اور اِن کے مریدوں نے مجاہدے اور نفس کشی سے منہ پھیر لیا ہے۔بے کار وہم و خیال کا نام مشاہدہ یعنی دیدارِ الہی رکھ لیا گیاہے۔

اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم کھوئ ہوئ عظمتوں کی طرف واپس چلیں ( جس کے لئے حصولِ علم، بردباری و حلم، نفئِ ذات، ہمہ وقتی خوفِ الہی، تقوی، ادائیگئِ فرائض اور سیرت وسنتِ رحمت العالمین ﷺ کی پیروی نہایت ضروری ہیں)۔


الله کریم غور و فکر و توفيق عطا فرماے ۔ آمين


جاری ہے ۔ ۔ ۔ 



    AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Saturday, January 1, 2022

4:22 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط چہارم

 گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ 


کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب (آسمانی) ملی تھی پھر ان پر مدت لمبی ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔

حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش رحمہ اللہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں :۔

ہمارے  زمانے میں تصوف کے علم کی حقیقت کھوکھلی ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ لوگ حرص و ہوس کا شکار ہیں اور تسلیم و رضا چھوڑ چکے ہیں۔ علمائے زمانہ اور وقت کے دعویداروں نے طریقت کی اصل صورت بگاڑ دی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 

جس چیز کو  زمانے کا ہاتھ نہیں چھو سکا۔اور جس  سے اللہ پاک کے خاص بندوں کے سوا تمام اہلِ ارادت، طریقت سے دور ہیں۔ تمام اہلِ معرفت، معرفت سے خارج ہیں۔ خاص و عام لوگ فقط لفظی عبارت کو کافی سمجھتے ہیں۔ حقیقت کو پردوں میں رکھنے کے خواہش مند ہیں۔  تحقیق کو چھوڑ کر تقلید چاہتے ہیں (کیونکہ) تحقیق ان کی دنیا سے دور ہے۔ ۔ ۔ ۔ 
جاری ہے ۔ ۔ ۔


 ??? اَلَمْ يَاْنِ لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُـهُـمْ لِـذِكْرِ اللّـٰهِ 



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxT

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/ 

Friday, December 24, 2021

5:39 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط سوم

 گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

غیبت، حسد، لگائ بجھائ اور ظلم و زیادتی ۔ ۔ ۔ یہ سب غلاظتیں سینوں میں لپٹی ہیں، بظاہر روزہ، نماز، زہد اور گوناگوں نیکی کے کام ۔ ۔ ۔ جب بارگاہِ خداوندی میں  اِن اُمور کی حقیقت کا پردہ کھلے گا تو پتا چلے گا کہ گندگی کے ڈھیر ہیں جن میں طرح طرح کی غلاظتیں ہیں جن سے تعفن اُٹھ رہا ہے۔

 

یہ حالت ہے ان علما کی جو ریاکار ہیں اور جو دینی اُمور میں مداہنت کرتے ہین، تسکینِ شہوات کے لیئے تصنع اور بناوٹ کرتے ہیں۔ جو اپنے اعمال میں خلوص  پیدا نہ کر سکے۔ اُن کے نفوس آتشِ شہوات میں جکڑے ہوے اور دل خواہشات سے بھرے ہوے ہیں۔


یہ سب عیب ہی عیب ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جب بندے کے عیب بڑھ جاتے ہیں تو اُس کی قیمت گھٹ جاتی ہے۔ 


لماذا لا تفکر؟ 





AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxT

https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/ 

 

Monday, December 20, 2021

3:57 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط دوم

 گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ 

امام ابو طالب مکی رحمه الله ان کے متعلق رقمطراز ہیں:۔

تم اِنہیں دیکھو گے کہ ظاہری احوال سنوارنے اور لباسِ ِٖ فاخرہ پہننے میں کوشاں ہیں، جب اِن میں سے کسی کے باطن پر نظر کرو گے تو دیکھو گے  کہ اِن کے دلوں پر کمئِ رزق کا خوف پہاڑوں کی طرح ہوتا ہے۔ قریب ہے کہ اسی خوف میں جان ہار دیں۔ ان کے دلوں پر مخلوق کا خوف اور جاہ و منصب چھن جانے کا دھڑکا حاوی رہتا ہے۔ 


یہ لوگ اہلِ دُنیا کی مدح و ثنا کر کے خوش ہوتے ہیں۔ اقتدار و رتبہ کی محبت اور خواہش رکھتے ہیں۔ مالداروں اور ظالموں کی چاپلوسی کرتے ہیں اور ناداروں کو بنظرِ حقارت دیکھتے ہیں۔ فقر کو باعثِ عار و ندامت جانتے ہیں اور حق کے مقابل اکڑتے اور تکبر کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے مسلمان بھائیوں سے کینہ اور عداوت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ رُسوائ کے خوف سے حق سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور رغبت و حرص، دُنیا پر مرتے ہیں۔ 


لالچ، کنجوسی، طُولِ اُمید، تکبر، اتراہٹ، کینہ، کھوٹ، اظہارِ فخر، ریاکاری، دوسروں   کے عیبوں سے اشتغال، دینی اُمور میں مداہنت، بد اخلاقی، تنگ دلی، حصولِ دنیا پر خوشی، متاعِ دنیا چھن جانے پر غم، عطا پر ناخوشی اور عدم رضا، جھگڑا، مفاد، غصہ، جلد بازی، بے رحمی، سلبِ نعمت  سے بے خوفی، فضول کلامی، خفیہ شہوت، بظاہر اخوت پوشیدہ دشمنی، رد و انکار پر ناراضی، غیر اللہ کے مغالبہ کی طلب، نفس  کی بے جا حمایت و نصرت، مخلوق سے انس حق سے وحشت ۔ ۔ ْ۔


 ۔ ۔ ۔جارئ ہے ۔ ۔ ۔ 



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Tuesday, December 14, 2021

3:49 PM

یخدعون انفسهم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھی عیاری ۔ ۔ ۔ قسط اول

 سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔

قابلِ  صد احترام میرے برادرِ خورد پروفیسر محمد اعجاز جنجوعہ  کے لئے فلاحِ دارین کی  ڈھیروں دعائیں اور ہدیہِ تبریک کہ وہ عشروں سے خدمتِ دین میں یکسوی سے مگن ہیں۔ اُنھیں نہ کبھی اکتاے ہوے پایا اور نہ  تھکاوٹ نے  اُنھیں بے وقت سُلایا۔  مساجد، منبر و محراب حاضریِ مسلسل کے گواہ، زباں ذکرِ الہی اور نعتِ رسول ﷺسے ہمہ وقت معطر، فکر سربلندی دین میں مگن اور   کتاب قلم اور رجسٹر دیرینہ ساتھی۔

آج کل اُن کے زیر ترجمہ امام عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی رحمتہ اللہ علیہ کی مشہور کتاب "الحدیقہ الندیہ شرح طریقہ المحمدیہ" ہے۔ کتاب کے کچھ صفحات نظر سے کزرے تو جی چاہا کہ دوستوں کو بھی شامل کیا جاے۔

كتاب میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ ِ اکبر محی الدین بن العربی قدس اللہ سرہ "فتوحاتِ مکیہ" [آٹھ سو سال پرانی کتاب] کے باب  الوصایا  میں فرماتے ہیں:۔

کسی عالم سے عرض کیا گیا، ہمیں وصیت فرمائیں۔ کہا ایسے لوگوں کی ہم نشینی اختیار نہ کروجو باہم تکلف اور بناوٹ سے کام لیں، بوجہ غرور کلام کو رنگین بنا کر بیان کریں، دھوکہ دہی کےلیئے چاپلوسی کرتے ہیں حالانکہ اُن کے قلوب کھوٹ، چغل خوری، کینہ، حسد، تکبر، حرص، طمع،بغض، عداوت اور مکر و فریب سے معمور ہوتے ہیں۔ تعصب اُن کا دین ہے اور منافقت اُن کا عقیدہ، اُن کے اعمال ریاکاری پر مبنی اور اُن کی پسندیدہ چیزیں دنیاوی شہوتیں ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں ہمیشہ رہنے کے متمنی ہیں، حالانکہ جانتے ہیں کہ ہمیشہ رہنے کی کوی صورت نہیں۔ یہ لوگ مال و متاع جوڑ جوڑ کے رکھتے ہیں جسے کھا نہیں سکتے، محل تعمیر کرتے ہیں لیکن اُن میں سکونت نہیں رکھ پاتے۔ دلوں میں ایسی امیدیں پالتے ہیں جو کبھی پا نہیں سکتے۔ حرام کماتے ہیں اور گناہ کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ نیکی سے روکتے ہیں اور برائ کے مرتکب ہوتے ہیں۔

صاحبِ الحدیقة الندیہ  آگے فرماتے ہیں، مجھے اپنی زندگانی   کی  قسم! یہ تمام اوصاف ہمارے زمانے کے اہلِ تقشف یعنی  بناوٹی صوفیوں، عبادت گزاروں اور  زاہدوں کے ہیں جو دینِ تعصب کے حاملین ہیں۔ یہ دینی احکام میں اُمتِ محمدیہ پر سختی کرتے ہیں حالانکہ حلال و حرام کے معاملہ میں اپنے لیئے آسانی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اِن کی پرہیزگاری، وسوسہ اور نیکیاں صرف خانقاہ، مدرسہ اور تکیہ کے اموال ہڑپ  کرنا ہے۔



۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاري ہے ۔ ۔ ۔ 



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.youtube.com/channel/UCcWozYlUgu-bkQU_YcPoxTg
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/