AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Sunday, July 1, 2018

9:27 PM

Mirror Vs Microscope ...

Salam o Dua . . . 

آئینہ بمقابل خورد بین ۔۔۔

Political scene in our beloved Pakistan is not only charged but terribly polarized ... Blame Game, Calling Names, Integrity, Fidelity and Morality, all victims of embarrassing Banality . . .

Social Media Teams ... Its a Jungle out there ... Anything goes, NO HOLDS BARRED.

Just read a thought provoking Post by my dear friend Shuja Khurazmi  ... As usual, he is on the dot.  

Inferring from Shah Ji's PHOOL, my very humble advice to everyone ....

‘While finding FAULTS with others ... Don’t use the Microscope because with that we can’t see ourselves, instead use A MIRROR, seeing one’s self can always yield better results and a graceful restraint'.

ابھی اپنے محترم دوست شجاع خورازمی کی ایک قابلِ غور پوسٹ پڑھی۔ شاہ جی نے حسبِ معمول  اپنے معیار کے مطابق بالکل صحیح تصویر کشی کی ہے۔ 

شاہ جی کا ’پھول‘ میری عاجزانہ درخواست کا باعث بنا ۔ ۔ ۔

دوسروں کے نقائص نکالتے ہوے خورد بین کا استعمال، جس میں اپنا آپ نظر نہیں آتا، گناہ اور شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ آئینہ، جس میں اپنا چہرہ  اور نقائص بھی نظر آ رہے ہوں، دنیاوی اور دینی، دونوں لحاظ سے زیادہ کارآمد نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ 


اللہ مدد فرماے ہم سب کی





AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz


Wednesday, June 27, 2018

6:29 PM

صرف ہم ہی کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔

سلام و دعا ۔ ۔ ۔ 


اِس پوسٹ کے انگریزی  مضمون پر میرے عزیز دوست میجر ظفر درانی نے خوبصورت تبصرہ فرمایا، "آپکی یہ ساری انگریزی فضول ہےکیونکہ جن سے آپ مخاطب ہیں وہ انگریزی نہیں سمجھتے اور جو سمجھتے ہیں وہ اپنے آرام دہ کمروں سے ووٹ دینے کے لیے نہیں نکلتے۔ جن کی اکثریت ہے وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں"۔

ظفر بھائ کے شکریہ کے ساتھ، وہی پوسٹ اردو میں حاضر ہے۔

سرزمینِ پاک میں انتخابات کی آمد آمد ہے، اس لیے یہ وقت ہے، تعزیتیں کرنے کا، دلاسے اور تسلیاں دینے کا، معذرتوں کا، قسموں کا وعدوں کا، راگوں کا،  کہانیوں کا،  نئے داو پیچ آزمانے کا، بہتان بازی کا،  دشنام کا، نئے نئے ہنگام کا،رنگ سازی کا،سنگ بازی کا اور سنگ سازی کا۔

ہانکا شروع ہو گیا ہے۔ پرانے شکاری نئے جال کے ساتھ میدان میں ہیں اور ہم میں سے زیادہ  شکار ہونے کے ارمان میں ہیں۔ امید کی کرن اگرچہ کہیں کہیں سے نمودار ہو رہی ہے، جیسے کچھ پرانے کھلاڑی جنوبی پنجاب، شمالی سندھ اور وسطی پنجاب میں لاجواب نظر آے۔ لیکن مجموعی طور پر تو زنگ صدیوں کا ہے، اترتے اترتے بھی وقت تو لگے گا۔ اور اُس کی لیے:۔

۔"قصوروار ہم خود ہیں میرے عزیز ہموطنو کوئ اور نہیں ہے۔ یہ ہمارے مقدر کا لکھا  نہیں ہے 
بلکہ یہ  ہماری اپنی کرنی ہے کیونکہ ہم خود  ہی پیچھے لگ ہیں"۔

اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہمیں کھڑا ہونا ہے اپنے پاوں پر، رواں ہونا منزل کی جانب اور شمار ہونا ہے زندوں میں۔

اگر انقلاب آنا ہے، تبدیلی رونما ہونی ہے (جو کہ بالکل ممکن ہیں) تو اس کے داعی بھی اور ساعی بھی ہمیں کو  ہونا ہے۔

پاکستان جس مقصد کے لیے بنا، جو آج ہے اور جیسا اِس کو ہونا چاہیے، اِس سب کی ذمہ داری ہمارے ناتواں کندھوں ہی کو اٹھانی ہے۔ تیاری کی ضرورت ہے، تجدیدِ عہد ناگزیر ہے اور سفر نہ ٹلنے والا۔

اپنی تباہی و بد بختی کے ذمہ دار بھی ہم اور اسے خوش بختی میں بدلنے کے روادار بھی ہم۔ فرشتے نہیں آئیں گے اس کے لیے تو مقامِ بدر پیدا کرنا ہو گا۔

وہ جو اڑسٹھ سالوں سے نوچ نوچ کر بے حال کر گئے، کرپشن کے بے تاج بادشاہ، سنگدل اور ذات کے خول میں گردابے  جابر ، اُنھیں کس نے برداشت کیا، کس نے کڑاکے کی سردی اور جھلساتی گرمی میں گھنٹوں ان کے لیے گلہ پھاڑ پھاڑ کر کے نعرے بازی کی، خاندان میں دشمنیاں ڈالی، صعوبتیں  برداشت کیں، خود غربت کی چکی میں پستے رہے اور ان کی آنے والی سو نسلیں بھی کھربوں کی مالک ہو گئیں ۔ ۔ ۔  ہم نے ۔ ۔ ۔ پاکستان لٹتا رہا، ہم نعرہ زن رہے۔

کیا ہم نے کبھی ان سے وطن سے وفاداری کا تقاضا کیا؟ کیا ہم نے کبھی ان کی کج روی کا شکوہ کیا؟ کیا ہم نے کبھی دھوکہ دہی پر انہیں ٹوکا؟ کبھی جھوٹ سے روکا؟کبھی ان کی ہوسِ بے لگام پر اعتراض کیا؟ نہیں تو پھر ذمہ دار تو ہم ہی ہوے نا۔

ہم نے اِن کی ناجائز دولت اور اپنے دس روپوں کا تو خیال رکھا لیکن وطن لٹنے پر ہم  خاموش تماشائ رہے۔ بلکہ جب بھی ہم خود احتجاج کے لیے کبھی باہر نکلے تو ریاستی اثاثوں کو ہی تاراج کیا۔ ہمارے رہنماوں نے ہمیں کبھی ہمیں یہ درس نہ دیا کہ پاکستان  ہمارا ہے تو اس کے سب اثاثے  بھی ہمارے ہیں۔ ہمیں ان کی حفاظت بھی ایسے ہی کرنی ہے جیسے کہ اپنے دس روپوں کی۔ لیکن وہ کیوں بتلاتے؟ بتلاتے تو لوٹ کھسوٹ چھوڑنی پڑتی اور یہ کبھی بھی کسی لٹیرے کو کب منظور ہوا؟

کل ایک وڈیو دیکھی جس میں پنجاب پولیس کا ایک کانسٹیبل ایک معزز نوجوان پر تھپڑوں کی بارش کیے ہوے تھا۔ زندہ قوموں میں ایسی بے حسی اور دیدہ دلیری؟ پھر بھی ہم زندہ قوم ہیں۔ وہ تو نوجوان تھا، یہاں تو صنفِ نازک تک کو گھسیٹا جاتا ہے۔

جس معاشی بد حالی سے آج  وطنِ عزیز دو چار ہے، یہ عشروں کی کارستانی ہے۔ بے تحاشا کرپشن، اربوں کے قرضے ہڑپ،ٹیکس چوری، سینہ زوری، موقع پرستی، مالی بے قاعدگیاں، اشاروں کنایوں پر فیصلے، حرام کو حلال اور حلال کو حرام ۔ ۔ ۔ جیسے چاہا سول اور فوجی حکمرانوں نے من مانی کی ۔ ۔ ۔ ہم صرف تماشای ۔۔۔ کیونکہ لٹا تو پاکستان  ، ہمارے تو دس روپے  ہماری جیبوں میں سلامت رہنے چاہہیں۔

ہم سب، میں بھی اور آپ بھی اس کے ذمہ دار ہیں ۔۔۔

اب کوئ عذر نہیں چلنا چاہیے۔

عمل کی ضرورت ہے، ابھی نہیں تو کبھی نہیں، خائن، کرپٹ، دھوکے باز، جھوٹا، باپ یا بھای بھی ہو تو ’ڈیلیٹ‘ کر دینا ہو گا۔

کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ کریم سے توفیق مانگ کے ۔ ۔ ۔اس خدائ عطیے پاکستان اور اپنی آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کےلیے کرنا ہو گا۔

نہیں تو پھر مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔۔۔

رہے نام اللہ کریم کا۔



جاری ہے ۔ ۔ ۔   




AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
2:46 PM

'. . . BUT IN OURSELVES . . . ONLY WE CAN 'DO', . . . NONE ELSE - 1!

Salam o Dua . . .

Its Election Season in the Land of the Pure ... And time to Condole, Console, Apologies, Anthologies,  Promises, Premises, Ruses, Abuses, Lies, Guise, Changes, Challenges . . . 

Hunt is on . . . Fully armed Hunters on the prowl . . . You and me are the Bunnies, ready to be devoured voluntarily . . . Though . . . There is a glimmer of hope from what one is seeing in South Punjab, Sindh and an odd incident in the central Punjab . . . Yet . . . صدیوں کی مسافت ہے . . .  And ... FOR THAT . . .
"The faultdear people* (*sorry Mr. Shakespeare), is not in our starsBut in ourselves, that we are  underlings."

WE HAVE TO CHANGE ... GET UP, GET GOING and BE COUNTED ...

If the Revolution/Change has to take place ... IT CAN/IT WILL ... ONLY THROUGH us.
Pakistan, what IT WAS, IS or IS OUGHT TO BE ... WE ARE RESPONSIBLE ...
We are responsible for the misery of all of us ...
We are responsible for the CORRUPT TO THE CORE, HEARTLESS, SELF-SERVING TYRANTS, who have been running the SHOW for the past 68 years. We have stood with them and withstood everything they heaped on the hapless PAKISTAN and us, THE PEOPLE  ... We always took pride in (and still do), CHANTING SLOGANS FOR THEM IN THE BLAZING SUN and BONE SHATTERING CHILL ... Never questioning their actions, loyalty to THE STATE, plunder of the STATE ASSETS, blatant lies, abhorring deceit and insatiable greed.
... And above all we failed to own the State ... Whenever we protest, We burn, GTSs, Banks, Public Offices, State Infrastructure ... Our leaders never told us that everything Pakistani is ours ... BECAUSE ... In that case SWINDLING would have to be stopped, which was never acceptable to them.
Yesterday there was a video clip on the Social Media, where a Punjab Policeman was slapping a decent looking respectable young man ... And .... We are responsible for that ... THE TORTURERS AND THE OPPRESSORS THRIVE DUE TO OUR INCAPACITATION.


The present economic mess we are in . . . WE ARE RESPONSIBLE  . . . We can blame the ineptness of the successive Governments (which could land in the garbage bin in 24 hours, if we didn't support/tolerate them), political opportunism and the turmoil, the financial irregularities, written off loans, paid for decisions ... BUT ... in the ultimate count we either elected the leeches or accepted the Iguanas as the Avatars.

NO ALIBI MUST WORK ...
WE NEED TO WORK, AND WE NEED TO ACT NOW . . .

WE HAVE THE POWER ... ONLY IF WE KNEW ...

                                . . . . TO BE CONTINUED .....




AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Sunday, June 24, 2018

3:39 PM

بہت اپنے لہو سے اِس چمن کی آبیاری کی ۔ ۔ ۔

سلام و دعا ۔ ۔ ۔

ہم وہی کچھ ہوتے ہیں، جو ہم دیکھتے ہیں۔ وہ صدیوں کا ورثہ، وہ مروت، وہ حیا و وفا، وہ وضع  ۔ ۔ ۔ جو گھر سے ملا وہی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔

عمر ڈھل گئی، چاندی کی چمک آئ تو جسم کی لچک گئی۔ بہت تبدیلیاں رونما ہو گئیں لیکن نہ سنگتیں چھوٹیں، نہ دوستیاں ٹوٹیں۔کل ہی اپنے ایک عزیز از جان دوست کو کہہ رہا تھا کہ شاید ہم زیادہ ہی پرانی قسم کے لوگ ہیں کہ جہاں اٹکے وہیں ہمیشہ کا تعلق جوڑ لیا۔ کیا وہ لوگ زیادہ بہتر نہیں جو جذبات و احساسات کو کبھی در خود اعتنا نہیں سمجھتے۔ جہاں گیلی چادر دیکھتے ہیں وہیں سستا لیتے ہیں اور پھر نئی اوڑھنی کی تلاش میں چل نکلتے ہیں۔

اپنی پرانی سنگتوں میں سے ایک کتاب کی دوستی ہے اور کیا دوستی ہے یہ، نہ منافق، نہ بخیل اور نہ جھوٹی۔ کبھی بھی کچھ چھپاتی نہیں ہے۔  چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت گیا کہ ایک بڑے نے پوچھا تھا آبِ گُم ریلوے سٹیشن پر، کتابیں پڑھتے ہو؟ کہا بیگ نہیں تھا سرہانے کے غلاف میں بھر کر لایا ہوں۔ یہ سنگت آج بھی جواں ہے اور رواں ہے۔  عادت کے مطابق سرہانے کے ساتھ پڑی ہوئ کتابوں میں سے ایک اٹھائ تو آج کل کے حالات پر یہ خوبصورت بات نظر آئ۔

ہماری بستیوں میں آ چھپے ہیں ناگ، بابا جی
اب اُن کے ذہر کا تریاق ہے بس آگ، بابا جی

سراسیمہ ہے خلقت حفظِ جان و مال کی خاطر
کہاں کی بین باباجی، کہاں کا راگ بابا جی

اِسی منظر میں تا حدِ نظر تھے پھول سرسوں کے
جہاں پھیلی ہوئ ہے نفرتوں کی آگ، بابا جی

بہت اپنے لہو سے اِس چمن کی آبیاری کی
اگر کلیاں نہیں کھلتیں، ہمارے بھاگ بابا جی


اور وہ گیلی چادر والوں کے لیے  ۔ ۔ ۔ 

صاف کیوں نہیں کہتے
نام چاہیے تم کو

صبح کے لبادے میں
شام چاہیے تم کو

عشق ہو کہ مزدوری 
دام چاہیے تم کو



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Saturday, June 23, 2018

2:09 PM

شمع اگر روشن ہے تو ۔ ۔ ۔

سلام و دعا ۔ ۔ ۔

 جہاں کہیں ایمان کی شمع روشن ہے، ارضِ وطن کے لیے تڑپ ہے اورمستقبل کے لیے خدشات ہیں ۔  وہاں

 یکسو ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ شاید اب ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘، کا وقت ہے۔ دیمک جو اِس وطنِ عزیز کو کو ستر سال سے کھوکھلا کر رہی ہے اُسے ہمیشہ کے لیے زمین بُرد ہونا ضروری ہے ۔ 

ہر خائن، مکار اور کذاب  نا اہل  ہے اور اُسے یوں ہی قرار دیا جانا چاہیے۔


جائدادوں کی جو قیمت  ظاہر کی گئی ہے، اس کا تعین کمرشل بنیادوں پر کرا کے اِسی جھوٹ کی بنیاد پہ حلفا غلط بیان کرنے والوں  کو الیکشن لڑنے سے روک دیا جاے۔ انکی خود بیان کردہ قیمت سے چار گنا زیادہ ادائگی کر کے سب بحقِ سرکار ضبط ہو اور پھر نیلامِ عام سے قیمت وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع ہو۔

ضمیر فروشی جرم ہے اور مجرموں کو سزا ملنی چاہیے اور اُن سے قطع تعلق ضروری ہے۔



ووٹ کو عزت دینے والوں کی ایک نمائندہ جس طریقے سے ایک بزرگ ووٹر پر ایک قانوں دان کی موجودگی میں تشدد کر رہی ہے (وڈیو سوشل میڈیا پر)، اس پر نوٹس لیا جاے۔ ووٹر کی عزت کو تار تار کرنے والوں پر لعنتِِ بسیار اور خدا کی مار ۔

مکمل صفائ کے لیے  ۱۹۴۸ سے لے کر اب تک تمام ملزمین و مجرمین کو مردہ یا زندہ (بغیر کسی تفریق کے) کٹہرے میں لایا جاے اور قرار واقعی سزائیں دی 
جائیں۔

نئے نظام کی ضرورت کو محسوس کیا جاے اور پر خلوص سفارشات مرتب کی جائیں تاکہ لوٹا گیری، ضمیر فروشی، اجارہ داری، نسلی تسلط اور جبر کو ختم کیا جا سکے۔

وفاداری  صرف وطن سے، اشخاص سے خلوص صرف اس شرط پر کہ وہ ملک کے خیر خواہ ہوں ورنہ ’ست سلام‘۔

راے کا اظہار ضرور فرمایئے گا۔





AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz








Friday, June 22, 2018

10:02 AM

لے سانس بھی آہستہ ۔ ۔ ۔

سلام و دعا ۔ ۔ ۔

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

مکافاتِ اعمال، جزا و سزا، قانونِ قدرت کی اٹل شق ۔ ۔ ۔

  جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا ۔ ۔ ۔

لیکن کلامِ الہی نے ایک راز وا کیا کہ معافی کا بھی سو فی صد امکان ہمیشہ موجود ۔ ۔ ۔

سواے ایک جرم کے ۔ ۔ ۔

اور وہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی ۔۔۔

حجرات ہو یا ابو لہب  کے ٹوٹتے ہاتھ یا سور کی تھوتھنی والے زنیم کی ابتلا ۔۔۔

اِس جرم کی سزا ذلت، یہاں بھی اور یقیناٗ وہاں بھی ۔۔۔

سوچنے والا دماغ، پُر بصیرت قلب اور دیدہِ عبرت نگاہ کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔

شک نہیں یقین، کوئ نہ بچا ہے نہ بچے گا  ۔۔۔ 



لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق  کی  اِس  کارگہ  شیشہ  گری  کا




AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Wednesday, June 20, 2018

12:19 PM

پاکستانی سیاست

سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔

جس سیاسی عمارت کی پہلی اینٹ 1958 میں رکھی گئی وہ اب باقاعدہ ‘سٹھیا’ چکی ہے۔  

خوشامد،

خود غرضی،

بے حمیتی، 

جھوٹ، 

گھوڑ بازاری،

چوری،

وطن فروشی،

ضمیر فروشی،

عوام دشمنی،

غریب ماری،

فریب کاری،

بنا شرم و حیا . سیاسی در بدی، کبھی ایک کے جوتوں میں اور کبھی دوسرے کے بوٹوں میں۔ 

رہے عوام تو یہ صرف نعرے بازی اور اندھی تقلید کے لیے، نہ یہ پوچھتے ہیں کہ منڈی کیوں لگی ہے اور ‘نہ اَو اِنہاں نوں ناساں دے بال برابر سمجھدے نیں’ ۔


غرضیکہ ہم سب صدی سے زیادہ پرانے مندرجہ ذیل شعر کی کماحقہ نفسیر ہیں :-


بے دلی ہاے تماشہ کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بے کسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہےنہ دیں






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz