AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Tuesday, March 20, 2018

12:37 PM

خوبصورت لوگ ۔ دلنشیں باتیں ۔ ۔ ۔

سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔

اللہ کریم نے سورة کہف میں فرمایا کہ جب ’تم نیک لوگوں میں بیٹھو  تو تمھاری نگاہیں اُن کے چہروں سے نہ ہٹنے پائیں‘۔ کیوں کہ اللہ والوں کی باتیں، اللہ سے ملاتی ہیں اور دنیا و عاقبت کو سنوار دیتی ہیں۔

ایسی ہی چند خوب صورت باتیں احباب کی نظر ہیں۔ ۔ ۔

فرمایا حضرت احمد کبیر رفاعی رح نے:۔

خوفِ خداوندِ ذوالجلال کو ابدی ساتھی بنا لو

کچھ عادات و خصوصیات زہرِ قاتل ہیں، ہر حال میں اُن سے بچ کر رہو۔ ۔ ۔

حسد سے، جو دوسروں کی نعمتوں کا زوال چاہتا ہے۔ ۔ ۔

کبر سے، اپنے کو دوسروں سے اچھا اور بڑا سمجھنا۔ ۔ ۔

جھوٹ سے، فضول چیز، ہمیشہ ذلت جس کا مقدر ہے۔ ۔ ۔

غیبت سے، دوسروں کے عیوب کو مت اچھالنا۔ ۔ ۔

حرص سے، یہ تمھیں ہمیشہ دنیا کا طلبگار رکھتی ہے۔ ۔ ۔

غضب سے، یہ جوشِ انتقام میں اندھا کر دیتا ہے۔ ۔ ۔

ریا سے، جب تمھارے اعمال و افعال دوسروں کو دکھانے کے لیئے ہوں نہ کہ اللہ کریم کی خوشنودی کے لیئے۔ ۔ ۔

نفس کی غلامی سے، کیوں کہ یہ غلامی تم سے انسانیت چھین لیتی ہے اور صرف خواہشات کا بندہ بنا دیتی ہے۔ ۔ ۔

اللہ کریم جاننے، سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرماے ۔ آمین





AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com



Tuesday, March 13, 2018

11:56 PM

کاٹنا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سلام اور ڈھیروں دعائیں ۔ ۔ ۔

اللہ کریم نے بنی نوعِ انسان کو خلیفتہ الارض بنایا ۔ ۔ ۔ بصیرت سے نوازا اور اغلب تعداد کو بصارت بھی عطا فرمائ ۔ ۔ ۔اکثر دیکھنا صرف پسندیدہ چاہتے ہیں اور معدودے بصیرت کو استعمال کرنے کی توفیق مانگتے ہیں اللہ کریم سے، اور اس سے کام بھی لیتے ہیں ۔ ۔ ۔

قانونِ فطرت ہے، بویا جانے والا اُگتا ہے اور کاٹنا بھی پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ بوتے ہوے دیکھنا چاہیے کہ،پودا سایہ دار ہوگا یا خاردار، پھلدار ہو گا یا مردم بیزار ۔ ۔ ۔

کاٹنا پڑتا ہے :۔

جدہ ہو یا جیوانی

لندن ہو یا للیانی

چولستان کے ریگزار ہوں

سوات کے مرغزار ہوں

چھانگا مانگا کا جنگل ہو

اسلام آباد کا منگل ہو

جو بویا سو کاٹا ۔ ۔ ۔ 

وقتی انفرادی فائدہ ۔ ۔ ۔ اوں ہوں

طویل المیعاد اجتماعی فلاحی فعل ۔ ۔ ۔یہاں بھی سرخروئی وہاں بھی فوزالکبیر۔ ۔ ۔

سمجھ لیں تو فائدہ نہیں تو استغاثہ ۔ ۔ ۔

اور ۔ ۔ ۔

سیاست کی نئی جہت ۔۔۔
تعن و تشنیع و دشنام طرازی کے بعد
‘پاپوش بازی و سیاہی کاری’
قابلِ مذمت ۔ ۔ ۔ 
۔ ۔ ۔لیکن ۔ ۔ ۔
محرکات و وجوہات کا ادراک بھی بہت ضروری ہے۔






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com 

Saturday, March 10, 2018

4:17 PM

عیار ۔ درویش بھی سلطان بھی ۔ ۔ ۔ ۔

سلام اور دعائیں

بزرگو، بھائیو، عزیزو، کاوشِ حصولِ رزقِ حلال عین عبادت ہے لیکن واے تن آسانی کہ  جہد و  زہد و تقوی کو چھوڑ کر انسانوں نے انسانوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ، کوئ فقیر بن کر لُوٹ رہا ہے تو کوئ وزیر بن کر۔ ۔ ۔ شب و روز یہئ سلسلہ ہے ۔۔

 چند دن پہلے ایک صاحبِ نسبت نے ایک بہروپیئے کا ذکر  کرتے ہوے انتہای دردمندی سےکچھ کرنے کا کہا بلکہ ’تزکیہ‘ کے نام سے ایک پروگرام کا باقاعدہ بیانیہ بھی بھیج دیا

 صدیوں کا زنگ ہے، شیطانی رنگ ہے، حرام خوری کی ترنگ ہے۔ ۔ ۔ نقار خانہ ہے ۔ ۔ ۔سنے کا کون؟ 

قابلیت عنقا ہے ۔ ۔ ۔ میراث ڈنکا ہے۔

کسی بہروپئیے کو ہی دیکھ کر یقینا حضرت احمد کبیر رفاعی رح پکار اُٹھے تھے :۔

پیارے تیرا یہ گمان ہے کہ ظریقت تیرے باپ کی میراث ہے، تیرے دادا سے سلسلہ بہ سلسلہ چلی آ رہی ہے۔ تیرے پاس بزرگوں کے نام سے چلی آئیگی، تیرے شجرہ میں داخل ہو جائیگی، تیرے   خرقہ کے گریبان پر، تیرے کلاہ  پر منقش ہو جائیگی۔ تو نے اس سرمایہ کو طریقت سمجھ لیا ہے کہ لباس ہو، کلاہ ہو، لاتھی ہو اور بڑا سا عمامہ ہو، بزرگوں جیسی صورت و شان بنا لی جاے۔ ۔ ۔ 

نہیں نہیں خدا کی قسم اللہ تعالی ان چیزوں کو نہیں دیکھتا، وہ تو دلوں کو دیکھتا ہے۔  تیرے دل میں خدا کے اسرار اور  اُس کے قرب کی برکت کیوں کر ڈالی جاے گی کہ تُو تو  کلاہ، لباس اور تسبیح کے حجابوں میں گرفتار ، اللہ کریم سے غافل ہے۔ 

یہ تمھاری عقل کس کام کی جو نورِ معرفت سے کوری ہے، یہ تمھارا سر کس کام کا  جو جوہر سے خالی ہے؟

تُو وہ مسکین و لاچار ہے کہ جو کام تو جانتا نہیں اس کا لباس تو نے پہن لیا ہے۔  دل کو مار کے خوفِ خدا کا لباس پہن لے ظاہر کو ادب سے آراستہ کر لے، نفسِ ناہنجار کو ذلت کا لباس پہنا اور انانیت کے بُت  کو گرا۔ زبان کو ذکرِالہی  کا پہناوا پہنا،  تمام نفسانی اور شیطانی حجابوں سے اپنی جان چھڑا۔ فضولیات سے بچنے کی ترتیب کر، صراطِ مستقیم کو جان، پہچان اور رواں ہو جاشاید کہ جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جاو۔


اوپر والی بات تب کی تھی، اب توہر میدان زاغوں کے تصرف میں ہے اور سلطانی بھی عیاری ہے اور درویشی بھی عیاری ہے۔


اللہ کریم توفیق عطا فرما کہ ہم شیطان کے وار سے اور   اپنے نفس  کی مار سے بچنے کے لیئےتیرے حبیب صلی اللہ وسلم کے بتلاے ہوے طریقے پر چل سکیں۔






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com 







Thursday, March 8, 2018

9:01 PM

CONDITIONS OF THE KINGSHIP and HEARTS OF THE PEOPLE !

Salam and Duain . . . 

World has been ruled by Humans since time immemorial  ... Most have been unscrupulous, lust driven, greed stricken, self-centered blood thirsty tyrants . . . Handful understood the conditions of the Kingship and importance of the Hearts of the People . . . Most of them converted/want to turn the RULE into a Family Inc . . . 


Sultan Salahaddin was one such great Ruler who understood both ... THE CONDITIONS OF THE KINGSHIP and HEARTS OF THE PEOPLE . . . Following is what he had famously impressed upon his Heir:-

My Son ... I Commend you to the Most High Allah, The Fountain of all Goodness;
Do His Will, for that way lies the Peace.
Abstain from the Shedding of Blood;
Know that Blood that is spilt NEVER SLUMBERS.
Seek to Win the Hearts of your People;
Watch over your People's Prosperity;
Secure Their Happiness because you have responsibility towards Allah and me.
Endeavour to Gain the Hearts of your Amirs, Ministers and Nobles.
BE KIND AND GENTLE . . . I have become as I AM, because I have won MEN'S HEARTS BY GENTLENESS AND KINDNESS.



How many like him are there now? 



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com 
 
 
 
 
 
 

Wednesday, February 28, 2018

5:54 PM

ACCOUNTABILITY - PERSISTENCE & PERSEVERANCE Will Dawn The Dawn !

Salam and Duaien . . . 

'THE PROCESS of ACCOUNTABILITY' in our beloved Pakistan has been the 'Here Today Gone Tomorrow' Phenomenon . . .  

Starts with 'THE PURPOSE' and Dies Abruptly . . . 

Join me in praying that it is DIFFERENT this time around, because if it dies an unnatural death again . . . It may be Years before something like it surfaces again . . . 

To have Lasting Effects, it must be:-
RUTHLESS
ACROSS THE BOARD - No Scapegoats and No Sacred Cows 
ABSOLUTELY TRANSPARENT
TIME-BOUND  
Done honestly and purposefully it can put Pakistan on the Avenue of  Prosperity and Greatness which should have happened much earlier if the Road-Map was chalked out deliberately and traversed earnestly. 

I read somewhere that:-
Time Advances 
Facts Accumulate
Doubts Arise. 
Faint Glimpses of Truth Begin to Appear and Shine more and more unto the perfect day. The Highest Intellects, like the Tops of the Mountains, are the First to Catch and to Reflect the Dawn. 
Tops are Bright, while the Level Below is still in Darkness. 
But soon the Light, which at First Illuminated only the Loftiest Eminences, Descends on the Plain and Penetrates to the Deepest Valley. 
First, Come Hints, then Fragments of Systems, then Defective Systems, then Complete and Harmonious Systems.  
The Sound Opinion, held for a time by one Bold Speculator, becomes the Opinion of a Small Minority, then of a Strong Minority, and finally of a Majority of People. 

May the Light of the Truth Catch on with the Highest and the Lowest. SINCERITY OF PURPOSE, PERSISTENCE AND PERSEVERANCE CAN DO . . . 





AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com

Tuesday, February 20, 2018

1:06 PM

جُرمِ ضعیفی ۔ ۔ ۔

حسنِ کرشمہ ساز ۔

اگنی کی طرح پوتر ۔ ۔   
یہاں کے امیر اور وہاں کے امیر ۔ ۔ ۔
بتوں کے معمار اور زر کے پجاری ۔ ۔ ۔ ۔
عدل وانصاف کے فراری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 بیوپاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
(مظہر برلاس کا آج کا کالم بھی واہ واہ)

شمع پر خون کا الزام ہو ثابت کیوں کر
پھونک دی لاش بھی کمبخت نے پروانے  کی

کیا بات جلیل مانک پوری  صاحب کی لیکن طاہر تونسوی صاحب  بھی سچ کہہ رہے ہیں :-


تو طے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رُتوں کے سارے عذاب لکھنا ۔
اجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو، آب لکھنا، حباب لکھنا ۔


مجھے یقیں ہے نصیب میرا نہ ساتھ دے گا، کہ تجربہ ہے ۔
سکون کو اضطراب کہنا، حقیقتوں کو سراب لکھنا ۔


اذیتوں کے سفر میں میں نے بھرم رکھا پھر بھی حوصلوں کا ۔
منافقت کے جہاں میں مجھ کو صداقتوں کا نصاب لکھنا ۔

یہ دور اہل قلم پہ بھاری کہ مصلحت کی سبیل جاری ۔
گناہ کو بھی ثواب کہنا، ببول کو بھی گلاب لکھنا ۔








AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com
12:06 AM

حالات - واقعات ۔ خرابات و خرافات

سلام اور دعایئں

پاکستان اپنوں کی کارستانیوں، غیروں کی ریشہ دوانیوں اور ‘عاقلوں’ کی مہربانیوں سے جس بے 
یقینی کی کیفیت اور امڈتےاندیشوں سے دو چار نظر آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس پر ضرورت تو تھی کہ ڈفلیاں رکھ کر سر اور دل جوڑے جائیں، کوہتاہیوں کا اقرار بھی کیا جاے اور تصحیح پر اصرار بھی کیا جاے۔

لیکن ۔ ۔ ۔

برا ہو خود غرضانہ رویوں اور احمقانہ سوچ کا کہ تقریریں اور تحریریں ‘اندر’ ہوں یا ‘باہر’ یہ بتا رہی ہیں کہ:

گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے ۔۔۔

اور اطہر شاہ خان کے مصداق ۔ ۔ ۔

میں نادہندہ ہوں بنک تک جانتے ہیں جیدی
تمہارا قرضہ بھی کھا رہا ہوں تو میری مرضی


اور بابا بوٹا مرحوم ایک ماہیا گاتا تھا جو کہ بقول مشتاق یوسفی صاحب کے ‘آدھا اخلاق سے گرا 
ہوا تھا اور آدھا وزن سے’، لیکن آج کے حالات کا صحیح ترجمان


کوی کوٹھے تے اُٹھ بیٹھے
جس گھر وڑئیے سارے ٹبرے آں دھا پوئیے۔ ۔ ۔

اب کوٹھے پر اونٹ کیسے بیٹھ سکتا ہے ۔۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے یہاں ‘کوٹھوں پر بیٹھے ہوے ہیں’




AKHTAR N JANJUA
janjua17686.wordpress.com