جب سمجھ آتی ہے تو سمجھ آتی ہے ۔۔
AKHTAR N JANJUA
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.
سلام اور دعائیں
۔[ابتدائیے کے بغير]۔
وہ علما اور دینی رہنما جو شریعت اور طریقت، علم اور حلم، وفا اور حیا، جہد و زہد، کی روشنی طریقہِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قائم رہ کر بکھیر رہے ہوں اور شعبدہ بازی و ریا کاری سے پاک ہوں تو ہماری نظریں اُن کے چہروں سے ہٹنی نہیں چاہییں کیونکہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ثقہ وارث ہیں۔
لیکن جب ہم دیکھیں کہ وہ دنیاوی خواہشات، نفسانی خرافات اور شیطانی عادات میں ملوث ہو گیے ہیں تو اپنا دین اور ایمان بچانے کے لیئے اُن سےفوری دوری اختیار کر نا لازم ہے۔
اور مت پیروی کرو اُس کی جسے ہم نے اپنی ےیاد سے غافل کر دیا ہو اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کی اتباع میں حد سے گذر گیا ہو ۔ کہف 28
Ulema and Religious Leaders are trustees of Prophet SAWS only till the time they remain away from the forbiddens and worldly pursuits. When they indulge and become the disciples of Iblees WE MUST STAY AWAY FROM THEM TO SAFEGUARD OUR DEEN O EEMAN.
And do not follow him whose heart We have made heedless of Our remembrance and who follows his desire and whose affair is ever [in] neglect - Kahf 28
سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔
دوستو یاد رکھنا، یاد کرنا اور یادوں کی بارات سجاے رکھنا انسانی فطرت ہے ۔ انہی یادواشتوں پر مبنی ہم مختلف ایام مناتے ہیں، خوشیاں بانٹتے ہیں اور شکرانہ ادا کرتے ہیں ۔ آج صبح فجر کے بعد میرے بچوں نے مجھے وش کرنا شروع کیا تو میں نے پوچھا کہ آج کیا ہے ؟ معلوم ہوا کہ آج ’فادر ڈے‘ ہے۔ سوشل میڈیا بھی تصاویر، تہینیتی تحاریر اور ان گنت دعاوں سے لبریز ؛ سوچا کہ میں بھی اپنے بابا جی کو یاد کر لوں پھر خیال آیا کہ میں تو اپنے والدین کی ظاہری حیات میں اور حیاتِ برزخ میں بھی ہر دن، ہر شب اُن کو یاد کرتا ہوں، اُن کا شکر گذار ہوتا ہوں اور اُن کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیےاللہ کریم سے گڑگڑا کے دست بادعا ہوتا ہوں ۔ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ جمیع مسلمین و مسلمات کے لئے نمازِ پنجگانہ، فرائض، واجب، سنت اور نوافل کی ہر آخری رکعت میں مناجات کرتا ہوں:۔
حال کے سب “المعتصموں”# کے نام ۔۔۔
تمھارے بغداد خطرات میں گھرے ہیں۔۔ تمھیں اُمڈتے سیلاب کا ادراک ہونا چاہیے ۔۔۔ (بدقسمتی سے نہ استعداد ہے نہ ہمت)۔ تمھارے سامنےانسانوں کے روپ میں درندے دندناتے پھر رہے ہیں۔ قتل و غارت گری سے روکنا تو درکنار ٹوکنے والا بھی کوی نہیں۔
تم ناتواں و ضعیف کانفرنس کا اجلاس اُس وقت بلاو گے جب مظلوموں کا چالیسواں ہو گا اور ان کی سر زمین ظالم درندوں کے پاوں تلے روندی جا چکی ہو گی۔
مقامِ مرگ ہے کہ تمھارے اخلاق سے مبرا طبلچی یہ طبلہ بجا رہے ہیں کہ “انھیں صرف اخلاقی مدد کی ضرورت ہے” ۔۔
ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ
(کم از کم اکٹھے ہو کر اجتماعی آواز تو بلند کر لیجیے)
جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو ظالموں کا رضاعی باپ اس وقت تک سلامتی کونسل کا اجلاس بھی نہیں ہونے دے گا جب تک “کام مکمل نہ ہو جاے”۔
شیخ سعدی علیہ رحمہ نے فرمایا تھا
جسے دوسروں کے مصائب کا احساس نہیں ہے وہ انسانیت کا غدار ہے۔
۔# آخری عباسی خلیفہ جس کے سامنے ہلاکو نے بغداد کو تاخت و تاراج کیا تھا۔
سلام، دعائیں اور عید مبارك۔ ۔ ۔
یہ بحث جاری ہے کہ عید کے چاند کی رویت کا اعلان صحیح تھا یا غلط اور راے تقسیم ہے۔
اپنی دلیل کے حق میں ہماری قوم میانہ روی نہیں بلکہ “بُشی فلسفہ” پر کام کرتی ہے کہ
یا تم ہمارے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ
سوال یہ ہے کہ اگر شوال کے شروع ہونے کی رویت صحیح ہے تو پھر رمضان شروع ہونے کا اعلانِ رویت شاید غلط تھا کیونکہ سارے عالمِ اسلام کو اللہ کریم نے تیس دن کا رمضان عطا فرمایا تو صرف اور صرف بے چارے پاکستانی مسلمانوں کو اُنتیس دن کا کیوں؟؟
شوال کا چاند اگر اومان کے ساتھ قربت کی وجہ سے گوادر میں اور چمن میں افغانستان کے ساتھ قربت کی وجہ سے اپنی رونمای کرا سکتا ہے تو آغازِ رمضان کے لیے کیوں نہیں؟
ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، اللہ کریم کے سامنے سرخروی کے لیے فکر کیجیے۔
سلام و دعا ۔ ۔ ۔
ایک غلام ملک کے اقلیتی گروہ سے تعلق۔ ساری اعلی تعلیم مغرب میں اور انگ انگ میں عشقِ رسول ﷺ
اور اس غلامی پہ فخر کیونکہ “خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ”۔
جاننے والے کہتے ہیں کہ ادھرخاتم النبیین ﷺ کا مبارک نام اپنی یا کسی اور کی زباں پر آیا وہیں رقت طاری ہو گئی۔ جھڑی لگ گئی آنسووں کی۔
فرماتے ہیں کہ:-
تب و تابِ بتکدہءِ عجم نرسد بسوز و گدازِ من
کہ بیک نگاہِ محمدِ عربی (ﷺ) ، گرفت حجازِ من
عجمی چمک دمک میرے سوز و گداز تک پہنچ ہی نہیں سکتی کیونکہ میرے حجاز یعنی قلب و روح کو آقا ﷺ نے ایک ہی نگاہ میں اپنا غلام بنا لیا ہے
وہ اس لیے کہ وہ آقا ﷺ کی صحبتِ پاک سے فیض یاب ہوتے تھے اور اس کا اظہار انہوں نے اپنے ایک خط میں یوں کیا
میرا عقیدہ ہے کہ نبیِ کریم ﷺ زندہ ہیں اور اِس زمانے کے لوگ بھی اُن کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ رض ہوا کرتے تھے۔ لیکن اِس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں کو ناگوار ہو گا، اس واسطے خاموش رہتا ہوں۔
اور یہاں جو سورہ احد پوری پڑھ نہیں سکتے ’عشق اور حرمت‘ پر آوازے کستے ہیں اور پھر بھی محمدی ہیں ۔۔۔
ارے ہاں نہیں ارے ہاں نہیں
حرفِ آخر ۔ ۔ ۔ آج ستائیس رمضان المبارک ہے اور اللہ کریم نے اس مبارک دن کو ہمیں پاکستان عطا فرمایا تھا۔ تقاضاِ رحمت تو یہ تھا کہ ہم اسے ’اللہ والی ریاست‘، بناتے اور ہمہ وقت پکارتے کہ ’المُلکُ للہ‘۔ یہاں قانون بھی خدای ہوتا اور پاسداری بھی سرکارِ مدینہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین والی لیکن واے حسرت حکمران مسلط ہوے تو کوتاہ بین اور کوتاہ اندیش، دنیا اور اسکی شہوات کے پجاری، جنہیں نہ دین کا علم نہ وعدوں کا پاس اور رعایا اتنی مجبور و مقہور اور سوچنے سے عاری کہ اپنے اپنے سیاہ کار کی لوٹ مار اور بدعنوانیوں کو بھی تمغہ سمجھتے ہیں اور ان کے لیے نعرہ زن ہونا دنیوی اور دینی فلاح کا باعث۔ اب بھی وقت ہے کہ رجوع کر لیا جاے تو بگڑی بن سکتی ہے۔
اللہ کریم بجاہِ رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور اس قدر والی رات کے صدقے ہم سب پر اورپاکستان پر رحم فرماے اور ہمیں ایسا بنا دے جیسے وہ کریم چاہتا ہے ایک سچے مسلمان کا ہونا۔ آمین
سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔
آج یومِ بدر ہے۔
خاتم النبیین، رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت، لاجواب قیادت بے مثال حکمتِ عملی اورسیرتِ پاک کے ہر ہر پہلو کا امین دن۔ پختگیِ ایمان اور پسنددیگی و بیکراں رحمتِ یزداں کا شاہد یوم اور جانثارانِ حبیبِ رب تعالی کے عشق و سچائ، غیر متزلزل عقیدے،عظمتِ خلوص، لازوال جذبہِ فنا فی اللہ و رسول،عزمِ قربانی و شہادت کا نقیب دن۔ اسلامی تاریخ کا اہم ترین دن کیونکہ اگر وہ مٹھی بھر اُس دن جان کی بازی نہ لگا دیتے، دنیاوی زندگی اور رشتوں پر ابدی زندگی اورایمان و اسلام کو اہمیت نہ دیتے تو ۔ ۔ ۔
اصحابِ بدر ایمان کے اعلی ترین درجے پر فائز آسمانِ نبوت کے وہ درخشاں ستارے جو مومنوں کے لیے تا قیامت صراط المستقیم پر چلنے کے لیے روشنی کا منبع ہیں۔ وہ یہاں سب سے بہترین تھے اور وہاں اعلی ترین مقام کی ذینت ہیں۔
کاش یوم الدین کو لواء حمد کے نیچے، حوضِ کوثر کے پاس رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اصحابِ بدررضوان اللہ اجمعین کی ایک جھلک ہمارا مقدر ہو جاے جب وہ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلمکے حضور ایسےہی چہرہِ انور پر نگاہیں مرکوز کرکے موجود ہوں جیسے ظاہری حیات میں مسجدِ نبوی میں ہوتے تھے۔
علامہ رحمتہ الله علیہ نے کیا خوب فرمایا:۔
اللہ کریم ہمیں یومِ بدر کی اہمیت کو جاننے اور بدر والوں کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے۔
آمین بجاہِ رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابِ بدر رضوان اللہ اجمعین۔