AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Sunday, May 26, 2019

2:31 PM

ہوسِ مال ۔ خیالِ بنونہ ۔ حطمہ ۔ دیدہءِ عبرت نگاہ ۔ وہ اور یہ ۔ ۔ ۔ ۔

سلام و دعا ۔ ۔ ۔

اہلِ ہوس تو خیر ہوس میں ہوے ذلیل
وہ بھی ہوے خراب، محبت جنہوں نے کی
پیریڈ ۔ ۔ ۔

تاریخ میں آتا ہے کہ خلیفہ اور اُس کی ملکہ زبیدہ نے ایک ہی وقت میں ایک خواب  دیکھا کہ میدانِ حشر ہے، رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرما رہے ہیں اور لوگ جنت میں جا رہے ہیں۔ نظرِ کریم قطار میں اِن دونوں میاں بیوی پر پڑی تو فرشتوں کو حکم دیا کی انھیں آگے مت لانا، مجھے اللہ کریم کے حضور ان کی شفاعت کرتے ہوے شرمندگی ہو گی کیونکہ یہ بیت المال کو لوٹ کا مال سمجھتے تھے اور بے دردی سے اپنے اور اپنے عیال پہ خرچ کرتے تھے۔

کہتے ہیں کہ نہرِ زبیدہ اور بہت سارے دوسرے رفاعی اقدامات اس خواب کا نتیجہ تھے۔


لیکن وہ حکمران ’وہ‘ تھے اور یہ  ہمارے ستر سالوں سے مسلط ’یہ‘ ۔ ۔ ۔ 

وہاں خوفِ خدا تھا
 یہاں حبِ مال و جاہ ہے
 نہ شرم ہے نہ حیا ہے
فکر ہے تو لوٹ کے مال کی
 ناخلف و نالائق بنون و عیال کی

اُن کے پاس تتفکرون والا دماغ تھا

تشعرون والا لاشعور تھا

تعقلون والا قلب تھا

سیرو فی الارض  والی نگاہِ زندہ تھی

اِن کے پاس لکنود ہے

لحبِ الخیرِ لشدید ہے

عددہ کا علم ہے، حطمہ سے لا علم ہیں

مکر ہے، فریب ہے  جو انشاء اللہ ایک دن خیر الماکرین کے سامنے بے نقاب ہوگا اور احتسابِ بے حجاب ہوگا۔

میرٹ پہ ’نوازا‘ جاے گا

ناجائز ’زر‘ کابھگتا خمیازہ جاے گا

وہ آلِ عمران  اور یہ عمران

وہ مریم اور یہ مریم

فرق اعمال کی بنیاد پہ عیاں ہو گا

کون جاوید، کون مردود، کون ظیب یا طیبہ  اور کون آلود


حساب ہو گا اور بے حساب ہو گا

اللہ کریم  تتفکرون، تعقلون و تشعرون کی توفیق عطا فرماے ۔ آمین بجاہِ طحی و یاسین، رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم





AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Saturday, May 25, 2019

11:36 AM

IF IT COULD BE REVOKED . . .

Salam and Dua ...


... Tick, tick and it keeps going ... Stop, it doesn't ... THE TIME ...



One more year flies past ... 



One more mile away from the Start-Line ... 



One more control point crossed towards the last Mile-Stone ...


Diving back in Memory-Lane ... AlhamdoLilah ... Nothing but Blessings of Allah Karim ...


Loving Family, Affectionate Elders, Sincere Friends, Compassionate Colleagues, Respectful Juniors ... BLESSINGS, RAHMA and BOUNTIES OF RAHMAN all around ...



Bowing in Unlimited Gratitude to Allah Karim



In the words of Pablo Picasso "One starts to get young at the age of sixty ... and then it is too late." And someone else categorised different phases of life as "You've heard of the three ages of man - youth, middle age, and "you're looking wonderful"." LOOKING or not, FEELING definitely ... No Regrets but I do miss:-

سادہ بچپن سادے سنگی
کریم والدین، شفیق بزرگ
چاندنی راتیں، آنکھ مچولی
کبڈی، دھدی پھیتا، اِٹی ڈنڈا،  بنٹے تے ا خروٹ
کچی مٹی پہ پانی کے چھڑکاو کے بعد اٹھنے والی خوبصورت مہک
گاہ، ترینگل، کراہی اور ترنگڑی
تندوری روٹی، لونی تے لسی، قمقماچ دی چٹنی، کچا پیاز، اچاری مرچاں 
Whenever on leave, playing cricket with the young boys of the village and on return, the love personified scold by Maan-Ji, (My wife always standing besides her wearing a mischievous smile):
کدن وڈا ہوسیں، اے عمر اے تینڈھی جاتکاں نال کھیڈن دی 
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناوں
ALAS --- Coming generations will never see that golden, pure organic life ...
On the Roohani side, the time is running out; 

            Doubling the days; no question, 

            Half of it very remote; 
      
            Few more - a possibility only, 

Allah SWT Says in Quran "And he to whom We grant long life We reverse in creation; so will they not understand?" YASIN 36 : 68. Systems and organs denote 'definite decay'... and practically ...

Still at the first stage ... shared with animals ..NAFS-E-AMMARA (EAT, DRINK, SLEEP and 'REPRODUCE').
LAWAMA, which produces remorse and differentiates us from the animals ... followed by MUTMA'INA, RAZIA and MARZIYA astronomical miles away ....  
But the effort 'TO BE' can start as its never too late ... اللہ کریم توفیق عطا فرما ۔

Thanks for your wishes ... I earnestly pray for you all ... 




AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Friday, May 17, 2019

1:26 PM

عنقا شاہین اور سیلابِ کرگساں ۔ ۔ ۔

سلام

عشرہِ مغفرت میں مغفرت  کی دعا


آج کے اخبار میں جنرل حامد جاوید پر رووف کلاسرہ کا کالم پڑھا جو ’موضوعِ بلاگ‘ بنا۔ کالم خود پڑھ لیجیئے، میں سردار دیوان سنگھ مفتون کی ’ناقابلِ فراموش‘ سے ایک صفحہ یہاں نقل کرتا ہوں۔ 


لکھتے ہیں:۔


راجپوتانہ کے قومی ورکر شری رام نارائن جی چودھری اپنا زیادہ وقت مہاتما گاندھی کے پاس گذارتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُن کا بیان ہے کہ باوجود  اس کے کہ مسٹر جناح کی مسلم لیگی پالیسی ملک اور کانگریس کے لیئے انتہای  نقصان کا باعث ہے مگر مہاتما گاندھی کے دل میں مسٹر جناح کی انتہای عزت ہے۔ اور مہاتما گاندھی  پرائیویٹ سے پرائیویٹ دوستوں میں بھی  جب کبھی مسٹر جناح کا ذکر کرتے ہیں تو انتہائ عزت اور محبت کے ساتھ۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مہاتما جی یہ سمجھتے ہیں کہ مسٹر جناح کے اندر کیریکٹر ہے۔ گورنمنٹ کسی قیمت پر بھی اُن کو خرید نہیں سکتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ نے کبھی بھی جناح کو اپنا نہیں سمجھا اور آپ سے ہمیشہ بدکتی ہی رہی۔  جناح کے مقابلہ پر جن کانگریسیوں میں کیریکٹر نہیں مہاتما جی اُن کو ۔۔۔۔سے بدتر اور ذلیل سمجھتے ہیں مگر بے بس ہیں ان کے خلاف کچھ کر نہیں سکتے۔



جو لوگ پبلک میں عزت اور شہرت حاصل کرناچاہتے ہیں اُن کے لیئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اپنے اندر کیریکٹر پیدا کریں۔ دنیا میں روپیہ اور دولت ہی سب کچھ نہیں۔ انسان کو اپنی عزت پر روپیہ قربان کرنا پڑتا پے۔ اور عزت تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب انسان میں کیریکٹر ہو۔ بلکہ غور کیا جاے تو اُس شخص سے  جس کے اندر کیریکٹر نہیں، جو دوستوں کے ساتھ بھی بد دیانت ہے، جو اعتماد کُش ہے اور قومی غدار ہے، بازار کا ایک آوارہ کتا بھی اچھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 

ناقابلِ فراموش ۔صفحہ    68










AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Sunday, May 12, 2019

2:39 PM

شکرانہ ۔ ہر حال میں

سلام و دعائیں

فیوضات و برکاتِ رمضان مقدر ہوں اور قبولیتِ صوم و صلات  و عبادات، روحانی درجات کی بلندی کا باعث۔

تدبر  ایک پل  کا 
مشاہدہ  چند لمحات کا 
تفکر التزام سے
عرفان، شعوری انتظام سے

تو پھر سواے شکرانہِ ذوالجلال اور کوی ترتیب نہیں۔


شُکر الہی ہر حال میں

خوش حالی ہو یا بد حالی

کشادگی ہو یا تنگی

تندرستی ہو یا بیماری

توانای ہو یا کمزوری

جیسے ہو، جہاں ہو، کچھ ہو، کیسا ہو

در بھی ربِ ذوالجلال کا

ڈر بھی ربِ ذوالجلال کا

اور شکر ہر  حال میں

فرمایا رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے:۔

مومن کی مثال کھیتی کی پہلی کونپل کی طرح ہے، ہوا چلتی ہے تو جھک جاتی ہے اور مصیبتوں کا مقابلہ کر لیتی ہے اور نہ جھکنے والے کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ جھکتا نہیں تو آخرِکار ٹوٹ پڑتا ہے۔

اس لیئے اللہ کریم کی طرف سے آنے والی ہر کیفیت پر شکر گذار اورفرحان و شاداں رہنا چاہیئے کیونکہ فلاح اسی میں پنہاں ہے کہ اللہ کی رضا کو اپنی ناراضی پر ترجیح دی جاے  اور یقینی بد انجامی مقدر ان کا جو اپنی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم جانتے ہیں۔


اللہ کریم غور و فکر اور شکر کی توفیق عطا فرماے۔  آمین بجاہِ ایں حمدِ ربُ العالمین

تو ہی بے کسوں کا ہے آسرا، تیری شان جل جلالہ
تو ہی ہر بشر کا ہے مدعا، تیری شان جل جلالہ

ہے عیاں بھی تو، ہے نہاں بھی تو، ہے یہاں بھی تو ہے وہاں بھی تو
کہ تُو ہی تو اپنا ہے خود پتہ، تیری شان جل جلالہ

تیری کنہہ کوی نہ پا سکا، ہوا پست عقل کا حوصلہ
کہ ہے عقل کی تو بساط کیا؟ تیری شان جل جلالہ









AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Monday, May 6, 2019

12:43 PM

Moments that Pass By - Always leave behind Traces ...

Salam and Dua

Reading a book (courtesy Barrister Babur Sohail) ... 

It is the narration of :-
Harrowing History of the Rulers of the Land of the Pure ... 
Chubby tale of Coincidences ...
Painful streak of Perpetuities ...
Dismal record of Denials ...
Abysmal Attitudes ...
Unending spiral of Ungratefulness ...
Oafish Opportunism ...
... And a little Malaise by the author ...

Following paragraph from the book says it all:-
In another ‘Top Secret’ US Intelligence report dated 5 October 1958, Ambassador Langley, quoting President Mirza, says: ‘He has been urged for at least a year by some within the army (Gen. Umrao for one) to take over, but he has told them “POLITICIANS MUST FIRST BE PERMITTED TO MAKE ASSES OF THEMSELVES”.’ Significantly the ambassador then makes his own observation: ‘ALTHOUGH EVERYONE IN PAKISTAN WOULD AGREE THAT THIS IS WHAT THE POLITICIANS HAVE NOW DONE.’
... And the Life Goes On ... Enjoy the following ... 


محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
کہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیں

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں
وہ اب چل چکے ہیں، وہ اب جا رہے ہیں

ہمارے ہی دل سے مزے ان کے پوچھو
وہ دھوکے جو دانستہ ہم کھا رہے ہیں

جفا کرنے والوں کو کیا ہو گیا ہے؟
وفا کر کے بھی ہم تو شرما رہے ہیں

وہ عالم ہے اب، یارو اغیار کیسے
ہمیں اپنے دشمن ہوے جا رہے ہیں



AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Sunday, May 5, 2019

5:43 PM

عزت -عقل - خُلق !

سلام اور ڈھیروں دعائیں ۔ ۔ ۔

شبِ جمعہ کو موٹر وے پر سفر کرتے ہوے ایک کال آی ۔۔۔ کال کرنے والے پریشان لگے۔ انھیں میں نے ایک اور صاحب  سے رجوع کرنے کا کہا تو اُن کی مایوسی نمایاں تھی۔ 

دوسرے دن آتے ہی میں نے انھیں آنے کو کہا اور جن صاحب سے رابطہ کرنے کا کہا تھا وہ بھی تشریف لے آے۔ 

لمحات میں مروت و اخلاق نے مایوسی اور جھجھک کو باہمی اعتماد میں بدل دیا اور مجھے خلقِ عظیم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ اقدس کا مفہوم یاد آیا:-

دین عزت ہے

مروت عقل ہے

حسب خُلق ہے

دینِ متین پر مستحکم لوگ گناہوں اور غلطیوں کے دانستہ ارتکاب سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں اور اللہ کریم ان کی حفاظت و استعانت فرماتا ہے اور عزت عطا کرتا ہے۔


مروت کے ساتھ پیش آنے والے کے ساتھ کوی بے مروتی نہیں کرتا۔ مروت سوچ والوں کا ورثہ ہے اور سوچ عقل کی مرہونِ منت۔

کوی شے یوں تو دھڑکتی ہے ہر اِک سینے میں
دیکھنا یہ ہے کہ دل کتنے ہیں پتھر کتنے 

جہڑا وی اپنے پیو نوں پنوانا نہ چاہے، او دوجے دا پیو پنیدا نئیں، دوسروں کی عزت کرنے والا کبھی بے عزت نہیں ہوتا۔ اخلاق اسی احساس کا سرمایہ ہے۔ 



اور ایک اور فرمان کا مفہوم ہے:-

عزت، پوہیزگاری ہے

شرافت، خاکساری ہے

حیا، ذینت ہے

تقوی، کرم ہے


اللہ کریم جاننے، ماننے اور کرنےکی توفیق عطا فرماے۔ آمین




AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Tuesday, April 2, 2019

11:24 AM

نیرنگِ جنوں ۔ ۔ ۔

سلام و دعا

بہت دنوں سے کچھ لکھ نہیں سکا،  مصروفیات و خیالات ۔۔

بہرحال بات کرنی ہے جنون کی ، وجہ اظہار الحق صاحب کا ایک کالم، آج کا اخبار ۔ ۔ کچھ دراڑیں کچھ بے تکیاں کچھ کہہ مکرنیاں۔

جنون ہے کیا؟ کہتے ہیں یہ عشق ہے، کیفیت ہے، حال ہے، اپنی ذات کی نفی ہے، نفع و نقصان سے بے نیازی ہے۔ 

 یہ بے خطر کود پڑنے کا نام ہے، لب بام جو رکتا ہے وہ توخرد  ہے۔ جو سوچتا ہے مجنوں ہو نہیں سکتا، جو ذات کے دائرے میں الجھ کر رہ جاے اُسے عشق سے کیا کام۔

جو مستقبل کے خوف کا شکار ہو جاے وہ جنون نہیں نو ٹنکی ہے، ایسا نیل کنٹھ جنون  ۔ ۔ ۔ ۔ 

نہ ’شر‘ کو ’بھگا‘ سکتا ہے

نہ ’زر‘ کو ’ونجا‘ سکتا ہے

صرف ’غریبوں‘ کو ’وٹے‘ مار کر ’یرکا‘ سکتا ہے۔

  لیکن چھوڑئیے جی ۔ ۔ ۔

آئیے آپ کو  ایک مجنون کی کہانی  سنائیں 

ایک بادشاہ (تب ہٹو بچو تو ہوتا تھا لیکن پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں محافظ نہیں ہوتے تھے)، نے راہ میں ایک مجنون کو دیکھا جو اطوار سے، عادات و سکنات سے خرد مندوں سے بہتر لگ رہا تھا۔ بادشاہ نے پاس بلایا، خیریت دریافت کی، بندہ اپنے حال پہ مولا کا شکر گذار نکلا۔

بادشاہ نے کچھ سوالات کیے، دیوانے نے پر مغز و مدلل جوابات دیئے ، بادشاہ خوش ہوا اور حیران بھی کہ یہ کیسا مجنون ہے؟

کہا مانگ کیا مانگتا ہے ۔ ۔ دیوانے نے کہا کہ سوال کرنے کی اجازت مرحمت فرمایئے۔ اجازت ملی تو پوچھا، "سونے والے کو نیند کی لذت کب ملتی ہے"؟

بادشاہ نے کہا، سو کر

دیوانے نے ترنت کہا، سویا اور مویا برابر ۔ ۔ لذت کہاں؟

بادشاہ نے کہا، نیند سے پہلے

مجنون بولا، یہ ممکن نہیں کہ کسی چیز کی لذت اُس کے وجود سے پہلے موجود ہو۔

بادشاہ سلامت بولے، نیند کے بعد ۔ ۔ 

صاحبِ حال نے کہا، لذت توایک صفت ہے، جب موصوف (نیند) ہی نہ رہے تو صفت کہاں رہے گی؟

بادشاہ لاجواب بھی ہوا اور مسحور بھی، مصاحبین سے کہا:۔

جام لاو

مجھے ایک، مجنون کو دو پلاو

دیوانے نے انکار کر دیا اور عرض کی، بادشاہ سلامت آپ پھر اپنی ذات کے خول میں پھنس گئے ۔ ۔ کیونکہ:۔

جام بھی آپ کو ہی فائدہ دے گا کہ آپ خرد کی
وادی سے نکل کر میری بلندیوں (جنون) کو
پا لیں گے، لیکن
میں پی کر کہاں جاوں گا؟

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ 

کیوں نہ نیرنگِ جنوں پر کوی قرباں ہو جاے
گھر وہ صحرا کہ بہار آے تو زنداں ہو جاے




AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz