AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Thursday, September 5, 2019

10:19 AM

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر ۔ ۔ ۔

سلام و دعا ۔ ۔ ۔

وہ چور تھا اور یقینا تھا کہ ناقابلِ تردید شہادت موجود تھی،  چند سو یا ہزاروں کا، سزا قانون کے مطابق ضرور ملنی چاہیئے تھی لیکن وحشت ناک موت کیوں؟ 
  کیونکہ :۔
یہاں تو اربوں کھربوں کے عدالت سے سند یافتہ مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔ ۔۔
جیل میں ہوں تو سات ستاروں والی رہائش۔ 
سڑکوں پر چڑھیں تو ہزاروں صلاح الدین نعرہ زن، درجنوں پاکستان اور پاکستانیوں کے خون پر پلنے والے درندے نگہبان۔
جو ہنستے ہوے، وکٹری کا نشان بناتے ہوے اربوں کی پلی بارگین کریں اور قوم کے کھربوں ڈکار جائیں۔

کہتے ہیں وہ ذہنی طور پر معذور بھی تھا لیکن پھر بھی درندگی کا شکار ہو گیا اور دوسری طرف خون آشام چمگادڑیں جونہی کسی بند کمرے میں پہنچیں تو دردِ زہ شروع اور عمالِ ھکومت سے لے کر بڑے بڑے ڈاکٹروں کی دوڑیں لگ جاے۔ یہاں ذہنی معذوری کے تو کیا کہنے، ایک خائن تو یہ بھی نہ لکھ سکا کہ وہ ڈنگو کتوں کے کاٹنے سے ہلاک ہوا۔

سن لو نام کے مسلمانوں، سورہ حجرات کی آیت نمبر  14 کی تفسیرو، رذیل نظام کے ذلیل کارندو تمھارے متعلق اللہ کریم کیا فرما رہا ہے:۔
اور جو کوی کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے ایک عذابِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔ النسا۔93

اور یقین کر لو کہ جب تمھیں اور تمھارے آقاوں کو لعنتوں کے ہاروں کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جا رہا ہو گا تو یہ ذہنی معذور چور بلکل اسی طرح تمھارا منہ چڑا رہا ہوگا:۔





اور اے ریاستِ مدینہ کے علمبردارو ختم کرو یہ قول و فعل کا تضاد، وہاں تو دجلہ کے کنارے کتا مر جاے تو حکمران اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے، اقتدار امانتِ خدا وندی ہے ، ڈاکووں کے راستے تراشتے ہو اور چھوٹے چور وحشت ناک موت مرتے ہیں، کیا تم نے مرنا نہیں ہے؟

اگر ذرا بھی غیرتِ ایمانی ہے تو عبرت کا نشان بناو مردودوں کو ۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ ذلت مقدر یہاں   بھی  (اپنے سے پہلے والوں پر ایک نظر ڈال لو) اور وہاں کا حال  اوپر پڑھ لو۔



کبھی سوچو تو پتہ چلے کہ ایک سو چھیاسی کروڑ دنیا میں کیوں ذلتوں سے دو چار ہیں؟

اللہ کریم شعور کی دولت دے


AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825

Saturday, August 17, 2019

1:33 PM

ہر ظالم و غاصب کا مقدر ۔ رسوای و مرگِ امر - -

سلام و دعا - - -

یومِ آذادی گذر گیا-

یومِ سیاہ بھی بیت گیا۔ 

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا شورای اجلاس بھی ہو گیا۔ 

کرفیو جاری ہے۔ 

خونِ ناحق بہہ رہا ہے۔ 

غاصب دندنا رہے ہیں۔ 

اُمتِ مرحوم کے رہزن منمنا رہے ہیں۔ ہم جن پر*ریلائنس* کرتے ہیں ان کی *ریلائنس* کہیں اور ہے۔ 

اصیل اور ڈگ میں فرق تو ہوتا ہی ہے۔ 

ظالم و غاصب کو یاد دہانی ہو:-

جسم قید ہو سکتے ہیں روح نہیں

زباں بندی ہو سکتی ہے سوچ پر پہرا نہیں بٹھایا جاسکتا

سانس کی ڈوری ٹوٹ سکتی  ہے صادق جذبوں  کی قوس و قزح ماند نہیں پڑ سکتی

ظالم مر کر تاریخ کے صفحات میں روز مرتے ہیں، *شیر خان و برہان* شہید ہو کر امر ہو جاتے ہیں

عمر ڈھل سکتی ہے جنون جوان رہتا ہے



ظالم لاکھ پہرے بٹھا لے، تالے لگا لے، اندھیرے بچھا دے ۔۔۔ سچ اور روشنی تو دروازوں کی درزوں میں سے بھی جھانک لیتے ہیں، باضمیر اپنے بھی بولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ



سید گیلانی کہتے ہیں

ظلم تمھاری میراث
جدوجہد و استقامت  ہماری وراثت
شکست تمھارا مقدر
 منزلِ آذادی ہماری تقدیر

پاکستان اور کشمیر کو اپنی جنگ خود لڑنی ہے، اقوامِ عالم کے اپنے اپنے مقاصد ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈے۔ اوپر سے تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ *مومن ہے تو پھر اللہ پر بھروسہ کر* دوسرے صرف مشرقی تیمور اور سوڈان جیسے حالات ہوں تو آتے ہیں، کشمیر، فلسطین، برما وغیرہ میں اُن کا کیا کام؟ اس لیئے مظاہروں کے ساتھ ساتھ تیاری بھی کیجیئے ۔۔۔

اور جو وہ وارث ہیں ہلاکو خان والے زمانے کے خلیفہ کے  تو یہ اُس گھوڑے کی ٹاپوں کے نیچے کچلے جانے والے سے لاکھوں درجے آگے عیاش اور پیلے پیں ۔ ۔ ۔ اُس خلیفہ کی طرح:۔

اُس گھڑی پوچھوں گا تجھ سے یہ جہاں کیسا ہے
جب تیرے حسن پہ تھوڑا سا زوال آ جاے
قرض بہت چڑھ گئے ہیں ۔۔۔ چکانے تو پڑیں گے

 انشاء اللہ رنگ لاے کا شہیدوں کا لہو 






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825























Wednesday, August 14, 2019

4:22 PM

یومِ آذادی و یکجہتیِ کشمیر ۔ ۔ ۔

سلام اور دعائیں۔ ۔ ۔

 سدا سلامت پاکستان ۔ تا قیامت پاکستان۔ ۔ ۔

  یومِ آذادی ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ یومِ اظہارِ یکجہتیِ کشمیر



کشمیر بنے گا دشمنوں کا شمشان ۔ ۔ انشاء اللہ

آداب، پر خلوص نیک تمناوں کے ساتھ کرہِ زمیں پر بسنے والے ہر پاکستانی کو ’یومِ آذادی‘ مبارک ۔
(آج قومی دن ہے اس لیئے قومی زبان ۔ اُردو نہ سمجھنے والوں سے معذرت ۔)
کہتے ہیں کہ پاکستان عطیہِ خداوندی ہے ۔ ۔  بالکل صحیح ہے ۔ ۔ بس تھوڑا سا غور اور یقینِ کامل کہ واقعی بخششِ الٰہی ہے ۔ ۔ ۔ 
تینتیس کروڑ سے زیادہ خود ساختہ خداوں کا مسکن
لاکھوں قبائل کی آماجگاہ
ہزاروں زبانوں کی پناہ گاہ
صدیوں پرانی تہذیب
ذات پات اور تعصبات کا ہمالیہ
مسلمان اقلیت اور بکھرے ہوے
پھر بھی لے کے رہے پاکستان ۔ بن کے رہا پاکستان
پاکستان اُسی ربِ رحیم کا عطیہ ہے جو بار بار اپنے کلام میں غور و فکر کی ترغیب دلاتا ہے ۔
فکر و خیال صحیح ہو جایئں تو معجزے رونما ہوتے ہیں 
فکر و خیال کج رو ہو جایئں تو مایوسیاں مقدر ٹھہرتی ہیں  
 خوف و دہشت ڈیرہ ڈال دیتے ہیں 
 بدعنوانی اور بدیانتی کے عفریت گھیرا ڈال لیتے ہیں
  کریم رب کی رحمتیں سایہ فگن ہونے کو تیار رہتی ہیں ہر دم ۔احساسِ زیاں اُجاگر ہونے کی دیر ہوتی ہے۔
مواقع فراہم کرتا ہے ذوالجلال کہ کفارے یہیں ادا کرلیں۔ 
آج پھر دو راہا ہے ہم سب کے سامنے، کشمیر بلک رہا ہے،کشمیری سسک رہے ہیں، مائیں نوحہ کناں ہیں، بہنیں اور بیٹیاں لٹ رہیں ہیں، جوان سر کٹا رہے ہیں۔ضمیر اوندھے منہ پڑے ہیں ، انسانیت شرمندہ ہے، کیونکہ کشمیر کی ہر گلی میں ہر گھر کے سامنے ایک خوں آشام درندہ ہے۔
کشمیر آزادیِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے، قرض ہے اقوامِ عالم پر، تازیانہ ہے مسلم حکمرانوں کے لئے اور فرض ہے پاکستان کے ہر فرد کے لئے۔
اس لیئے یہ وقت اتفاق کاہے، نفاق کا نہیں۔ 
ہماری بہادر افواج قربانیوں، وطن سے محبت اور حلف کی پاسداری کی بے مثل تاریخ رقم کر رہی ہیں ۔دشمن منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ہمارے ذاتی اور اندرونی مسائل برطرف، ہمیں افواج پاکستان کے پیچھے سیسہ پلای دیوار بننا ہے، انھیں بتلانا ہے کہ تمھارے خون کے ہر قطرے پر یہ قوم نثار کہ تم ہو تو باقی ہے یہ قوم، اس کا وقار اور نکھار۔

ہمیں اپنے دائرہِ فکر کو وسیع کرنا ہے کیونکہ دائرہِ فکر وسیع ہو تو اخوت و دیاتت و شجاعت کی راہیں کھلتی ہیں، اپنی ذات پر مرکوز ہو کر رہ جاے تو بہکتے دیر نہیں لگتی ۔
پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر بننے والا پہلا اسلامی ملک؛
جہاں میثاقِ مدینہ جیسا قانون ہونا چاہیئے
جہاں رواداری و برداشت کا  دور ہونا چاہیئے
جو ایسے با ایمان لوگوں کا مسکن ہو جن کے متعلق علامہ نے فرمایا تھا

"مومن کی یہ پہچان کہ گم اِس میں ہیں آفاق"

وہ مومن جو ظالموں کے لیے جبار وقہار ہوں تھا اور مظلوموں کے لیے رحیم و کریم
جہاں الطاف و کرم اور شرافت کا دور دورہ ہو ۔
جہاں  عدل و انصاف، روارداری و برداشت، علم و حلم کے چراغ ہمہ وقت روشن ہوں۔
ہمیں مل کر پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے
امن و امان اور اخوت و محبت کی فضا، دماغ کی جلا اور دل کی صفائ سے قائم ہوتی ہے ۔
اسی لئے قرانِ کریم نے بعثتِ نبویؐ کے مقاصد یہ بتاے کہ قلب و ذہن کا تزکیہ و تطہیر کی جاے، کتابِ  مبین سکھای جاے، حکمت و دانای کی راہ دکھای جاے، عرفان و  عمل کی صراطِ مستقیم اپنای جاے۔
ہمیں  ایسا کرنا پڑے گا ۔
دانشمندی یہ ہے کہ اسباب و علل پر غور و فکر کیا جاے اورا پیدا شدہ حالات کا خلوصِ دل سے مقابلہ کرنے کی تیاری کی جاے ۔ 
اس کے لئے بڑی پامردی، بڑی استقامت، بڑا خلوص، بڑی دلسوزی اور بڑی دلداری کی ضرورت ہے
سرکارِ دو عالم ؐ کی سیرتِ پاک ہمارے سامنے ہے؛
کمزوروں اور بے کسوں کا ساتھ دیا
مظلوموں کی داد رسی کی
 برایئوں کا سدِباب کیا
سر کشوں کی پوری طرح سرکوبی کی
عدل و انصاف کے رستے کی ہر دیوار گرا دی
اپنے پرائے، امیر غریب، گورے کالے، عربی عجمی کے لئے مساوات قائم کی اور ہر تفریق کو مٹا ڈالا ۔
یہ جو ہمارا چلن ہے کہ ہم خود ہر قانون سے بالاتر ہیں، ذات اور خاندان سے آگے کوئ اور موجود ہی نہیں
جرم ہم کریں تو قابلِ استثنا، دوسرے کریں تو ہم سیخ پا
علاج اوروں کے لئے، ہم خود پرہیز کے بھی قائل نہیں ۔
ایسا نہیں چلے گا، ہمیں بدلنا ہوگا اعمال کو، اطوار کو، زندگی گزارنے کے ہر کاروبار کو
 پرہیز شرطِ اول ہے
ہر منزل ہر شعبے میں
بغیر پرہیز علاج ممکن نہیں ۔
آذادی نے اگر پنپنا ہے تو عدل و انصاف اور معقول پابندیوں کے ساتھ ہی ایسا ہو پاے گا
 اے رہنمایانِ ملت ہمت کیجئے بسم اللہ اپنے سے کیجئے
حکیمانہ فکر کے ساتھ پرہیز شروع کیجئے
اپنے کو احتساب کے لئےچن لیجیے
دولتوں کے ڈھیر بدیس سے دیس لے آیئے
عدل و انصاف کے علمبردار بن جایئے ۔
صحتِ ملی آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
پاکستانی عوام کے لیئے ۔ ۔ ۔ ۔ 
تم ہی اصل ہو اس عطیہِ الٰہی کا ۔ 
 جلدی یہ احساس  ملک و ملت کے لئے انتہای ضروری مزید انتظار کا وقت شاید نہیں رہا ۔
بھروسہ اللہ کریم کی ذات پہ، روشنائ و رہنمای سیرتِ رسولِ پاک سے، مقام بدر خود پیدا کرنا ہوگا، پھر فرشتے آئیں گے اعانت کے لئے، مرے ہووں کی طرف دیکھنا نہیں پڑے گا، جو اپنے لئے سب کچھ ہوتے ہوے کچھ نہ کر سکے اور راندہِ درگاہِ خداوندی کے سامنے سر نگوں ہو گئے، وہ آپ کی مدد کو کیا آئیں گے۔

بازوے خالد، شمشیرِ حیدر، جذبہ معوذ ومعاذ ، ولولہ ضرار، عظمتِ فاروقی، بردباریِ بوبکر، حلمِ عثمان کا وارث ہم نے اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے ۔ ۔  ناخلف نہیں ۔ ۔ ۔ وہ کہیں اور بستے ہیں 
یومِ آذادی اور یومِ اظہارِ یکجہتیِ کشمیرمبارک ۔۔۔ ۔۔۔



سدا سلامت پاکستان ۔۔۔۔ تا قیامت پاکستان






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua/
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Sunday, August 11, 2019

11:33 PM

Lest We Forget 🌈 ...

Salam and Duaien ...

Friends, 72 years have passed since that memorable day ... 11 Aug 1947 ... Just to refresh, I went through the inaugural speech of Quaid-e-Azam, to the Constituent Assembly. I request each one of you to do that ...



Shall copy here just few observations and 'TO BE DONE' instructions of the Quaid:-

"You will no doubt agree with me that the first duty of a government is TO MAINTAIN LAW AND ORDER, so that the LIFE, PROPERTY and RELIGIOUS BELIEFS of its subjects are FULLY PROTECTED BY THE STATE.


*You are free; you are free to go to your temples; you are free to go to your mosques or to any other place of worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed – that has nothing to do with the business of the State. As you know, history shows that in England conditions, some time ago, were much worse than those prevailing in India today. The Roman Catholics and the Protestants persecuted each other … The people of England in course of time had to face the realities of the situation and had to discharge the responsibilities and burdens placed upon them by the government of their country and they went through that fire step by step. Today, you might say with justice that Roman Catholics and Protestants do not exist; what exists now is that every man is a citizen, an equal citizen of Great Britain and they are all members of the Nation.
Now, I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.*

The second thing ------ IS BRIBERY AND CORRUPTION. That really is a poison. We must put that down with an iron hand -------
BLACK-MARKETING ---- I think they ought to be very severely punished ...
The next thing that strikes me is ---- THE EVIL OF NEPOTISM AND JOBBERY. I want to make it quite clear that I shall never tolerate any kind of jobbery, nepotism or any any influence directly or indirectly brought to bear upon me."

On this 11th Day of August 2019, where do we stand in the light of aforementioned points?  ... 
Failure interspersed with (just) occasional Brilliance. 

11 August 47 had :-
VICTORY, HOPE, JUBILATION, WIIL TO DO, SENSE OF ACHIEVEMENT, UNITY, FAITH AND DISCIPLINE ...

HOPE we must have ... WE CAN CONVERT HOPE TO REALITY ... IF WE REMEMBER WHAT QUAID ASKED US TO DO ... and ... DO WE MUST.

Life is a bumpy journey ---- PEAKS and VALLEYS are always there. 'Blessings in Abundance' are packed in its Right Pocket by the Creator, and in its Left, we accumulate Miseries through our Exploits ---- Blessings must get the due GRATITUDE and Miseries be reflected upon for the FRESH START ...

'Past be in the Present' as a Launchpad to reflect, infer and act  . . .

WE MUST:-

Look Inward . . . Take Stock . . . Rubbish the DENIAL . . . Repent and Resolve . . . DIRTY DEEDS ... NO INDULGENCE in Future . . .

Go to the Drawing Board . . . Chalk out a NEW COURSE . . . Loaded with the FAIR-PLAY . . . Run the Course as it must be . . . Carve out the Victory . . .

Do we Have it? . . . Can we climb the Mountain?

WE CAN, WE MUST, WE SHALL IN SHA ALLAH ...

370/35- India, Pakistan and Kashmir.  (not on 11 August) THE QUAID HAD TERMED KASHMIR AS THE JUGULAR OF PAKISTAN.

We must not/we will not let our Jugular to bleed and get severed ... Our Kashmiri Brothers/Sisters/Children must know that the DESTINATION SUCCESS lies at the end of the Path of Pain. You have walked the Path of Pain for better part of a Century ... Destination Success is just around the corner. You have embarked upon the last leg of  painful journey ... WE ARE WITH YOU ... WERE THERE, ARE and EVER WILL BE ... IN SHA ALLAH.
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن
ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن 

{Resolve and Strength of Character,  Costly Commodities Off-Course . . . but ... have been around since the time, MAN CAME INTO BEING ...}


کشمیر جنت نظیر پاے گا اپنے خوابوں کی تعبیر انشاء اللہ

سدا سلامت پاکستان ۔ تا قیامت پاکستان






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua/
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Thursday, August 8, 2019

8:27 AM

اینَ ما تکُونُو یُدرِککمُ الموت ۔ ۔ ۔

سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔

کافی دن بیت گئے ، کچھ سرزد نہیں ہوا ۔ ۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن دیکھنے اور سننے سے ہی فرصت نہیں مل پا رہی۔ آج لیکن ایک جوانمرگ نے تڑکے ہی بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔ مخلص و محبی علامہ مسعود عالم خان نیازی کے جواں سال بھانجے اسرار خان نیازی کی ناگہانی موت نے انتہای افسردہ کیا۔ مرحوم زندگی سے بھرپور جوان تھا۔ اپنائیت اور احترام اس کے انگ انگ سے امڈتا تھا۔ اُس کا ’چاچو‘ کہہ کر پکارنا، محبت کا ایک جہاں اپنے اندر سموے ہوے ہوتا تھا۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ وہ بھائیوں کے ساتھ زید بیٹے کی شادی پر آیا ہوا تھا اور لگتا تھا کہ سارے پنڈال میں موجود ہے، یہاں فوٹو سیشن وہاں قہقہوں کی بوچھاڑ ۔ ۔ ۔ بسنتِ حضرتِ غالب جی پکار رہا ہے کہ "تُم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد 
کے ۔ ۔ ۔ "۔



اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرماے اور پسمانگان و خاندان کو صبرِ 
جمیل اور حسنات و شکرانہ کی توفیق۔

موت اٹل سچ  ہے ۔احساس و یادِ موت  صراطِ مستقیم کا مسافر بنا سکتے ہیں۔ احساس یہ کہ ہم سب راہِ فنا پر رواں ہیں، ہر لمحہ قریب سے قریب تر لے جا رہا ہے منزلِ فنا کے۔ اور یاد یہ کہ ایک دن سب اپنوں کی قربت سے بہت دور ہم بھی کسی گڑھے میں اُتر جائیں گے۔

اس دنیا میں موت کی کشتی ہمیں ہماری ہی حرص کی ہواوں اور لالچ کے بادبانوں سے ہماری غلط و صحیح امیدوں کے سمندر میں لئے پھر رہی ہےاور پھر کوی بہانہ بنے گا جیسے اسرار بیٹے کے لیے بجلی کا کرنٹ بذریعہ فرشی پنکھااور یہ ہمیں موت کے گہرے پانیوں میں غوطہ دے کر آگے بڑھ جاے گی۔

عزیزان، اللہ کریم احساس، علم اور عمل کی بسرعت توفیق عطا فرماے کیونکہ ہماری قبر کی تاریکیاں ہمارے اجسام کو اپنی آغوش میں لینے کو ہر دم تیار ہیں۔ کہیں دیر نہ ہو جاے کہ ہم اپنی غفلتوں میں گُم اور اپنی خواہشات کے نشے میں مست ہوں اور موت اپنا  وار کر    جاے۔ موت کا کارندہ ہر وقت پکار رہاہے:۔

اینَ ما تکُونُو یُدرِککمُ الموت ۔ ۔ ۔ 
تُم جہاں کہیں ہو موت تمھیں آ لے گی۔ النسا:۷۸


ایک دفعہ پھر اسرار بیٹےکے لئے دعاے مغفرت اور علامہ مسعود عالم اور اہلِ خاندان سے دلی تعزیت۔



AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua/
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Sunday, July 7, 2019

1:31 PM

بڑے لوگ بڑی باتیں ۔ ۔ ۔

سلام، نیک تمنائیں اور ڈھیر ساری دعائیں ۔ ۔ ۔

دوستو ماننے کے لئےجاننا بہت ضروری اور جاننے کے لئے سعیِ مخلصانہ لازم۔ اِسی لئے تو خدای نسخہِ کیمیا کی خشتِ اول، "اقرا باسمِ ۔ ۔ ۔ ۔"۔


معرفتِ  خدا ، پہچان کے لئے، وجدان کے لئے اور احسان (وحیِ جبریل والا) کے لئے ملزوم۔ معرفت بجز استاد و رہنمای اور کاوشِ جمیلہ کے ناممکن۔ دوست بننے کے لئے وفا  اور ایفا ضروری اور اُن سے حصولِ فیض جو تمام امتحانات سے سرخرو ہو کر  ولائت کی خلعت سے سرفرازہوے ہوں۔ 

خوبصورت و خوب سیرت دوستوں سے نمازِ فجر کے ساتھ ہی خوبصورت پیغامات ملنا شروع ہوتے ہیں۔ایک  میسیج اس بلاگ کے آخر میں نقل کرونگا  لیکن پہلے حضرت احمد کبیر رفاعی رح کے ایمان افروز ملفوظات سے کچھ نصیحتیں جو انھیں ایک بزرگ سے ملیں:۔
اللہ تعالی کے غیر کی طرف ملتفت ہونے والا کبھی اللہ تعالی کی بارگاہ تک نہیں پہنچ سکتا اور شکی مزاج کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
جس شخص کو اپنے اندر کمی کا علم نہ ہو اُس کے سب اوقات نقص اور کمی کا شکار ہیں۔
طبیبوں کا بیمار ہونا، دانشمندوں کا جاہل ہونا اور دوستوں کے ساتھ بے مروت ہونا  بہت برا ہے۔
جو اللہ تعالی کی معرفت حاصل کر لیتا ہے وہ باادب ہو جاتا ہےاور خوفِ خدا اس کا ہم نشین۔ 
خوفِ خدا  ذاتی محاسبے کا احساس اجاگر کرتا ہے اور ذاتی محاسبہ مراقبہ کی طرف ملتفت کرتا ہے۔ 
مراقبہ ذکرِ الہی کا موجب بنتا ہے۔
اور اب آج کا میسیج:۔
اللہ  کی  دوستی  حاصل  کرنی  ھے  تو  اُس  کے  بندوں  پر  مہربان  ہونا  پڑے  گا
کیونکہ  عبادت  کرنے  سے  جنّت  ملتی  ھے  اور   خدمت  کرنے  سے  
خُدا  ملتا  ھے
اللہ کریم غور و فکر اور عمل کی توفیق ہم سب کو عطا فرماے۔ آمین بجاہِ رحمتہ العالمین، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua/
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/

Saturday, July 6, 2019

1:27 PM

MINGLED THOUGHTS ...

Salam and Best Wishes ...

Friends, many are the 'Pitches', varied are the 'Swings' and so is the 'Bounce'...Too much is 'Happening', so much is there to 'Talk About'...Puzzled Thoughts, Jumbled Impressions ... Only few in this post:-
  • Mercedez is Mercedez. I have always been very certain that no car could match my 1970s, how would be the latest bullet proof PM carrier? Really difficult to Give Off ... period ... But I know a gentleman who not only willingly parted with the Mercedez but also a latest model BMW given to him as a personal gift ... Exceptions, however, have never been a rule.
  • World Cup. Prayers and Others' do work but not always ... Overall  performance, however is not that bad; despite the initial hiccups, Team Pak has done well to be at par with the likes of Eng and NZ as far as the 'Won-Lost' column goes ... More-so keeping in view the facilities, structure, education, lack of exposure to international cricket at home and closure of doors on County and IPL etc. Indian Cricket is different, century old structure, abounding numbers, pennies and facilitates ... still Pak Teams over the years have been beating them but now the gap is too-big. CHANGE IN THINKING AND PRACTICES REQUIRED ...  
  • Political Scene It is said, "All human wisdom is summed up in two words; Wait and Hope" ... But the way things are shaping, it looks that HOPE to reach the green pastures again is Waning    so 'All Concerned' can't WAIT ... Hence non-stop WAILING .... People trapped in the self-created nets, psyche-out and  generally home on a single point agenda ... SURVIVAL ... losing sight of the realities and exploration of ways 'TO LIVE ON FOR ANOTHER TOMORROW' ... They ultimately go for the most destructive path ... THE SAMSON OPTION ... Which ensures their DEMISE, along with collapse of the TEMPLE. 
  • Denial. Always Dangerous and Detrimental ... Any level, State, Society or Individual. It is the preferred path marketed by the Devil and his Disciples... This path makes one Run, Run and Run ... Solutions are Forbidden. Keep denying problems, no inventive focussing, drop the shutter on the mind because if it is kept operational, it will generate ideas that can help one escape the circumstantial traps ... Denial constantly hammers the punchline SOLUTIONS ARE FORBIDDEN. Never look/ask/adopt an idea, from yourself or anywhere else ... Only a single good idea/action is needed to solve the problem, but in a state of DENIAL the SOLUTIONS ARE FORBIDDEN.  Bottom Line ... If Fears are not CONFRONTED, then CONSEQUENCES have to be ...

Food For Thought ... An old African Proverb:-
When the Roots of a Tree begin to Decay ... The Death spreads to the Branches ...


AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
https://www.pinterest.com/akhtarjanjua/
https://www.linkedin.com/in/akhtar-janjua-90373825/