AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Sunday, July 11, 2021

6:24 PM

حکمت کے موتی ۔ ۔ ۔


سلام اور دعائیں۔

انسانی معاشرہ قربت، رقابت،محبت، نفرت، اتفاق، نفاق، امن، فساد، عفو و در گزر اور انتقام کی ایک طويل داستان ہے۔ ہابیل  اور قابیل  دو کردار ہی نہیں بلکہ معاشرہ اُن ہی کے کرداروں پر استوار ہے۔رحمن، رحیم اور کریم اللہ سبحانہ و تعالی، تواب بھی وہی اور معاف فرمانا بھی اسی کی صفت۔ ہزاروں سال اپنے رسولوں کی ذریعے بنی نوعِ انسان کی تربیت فرمای اور خاتم النبیین، رحمتہ العالمین ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا اور اُن ﷺکے ذریعے  اپنی ہدایت کو مکمل فرمایا  تاکہ ہم انسان اللہ کریم کو جانیں، پہچانیں اور اپنی زندگی کو خداوندی اوامر و نواہی پر قائم کریں کہ فلاح پائیں یہاں بھی اور وہاں بھی  اور  خدای صفات کریمانہ سے خود بھی استفادہ کریں اور دوسروں کو بھی ان سے مستفید کریں جب جب ضرورت پڑے۔ 

اختتامِ وحی و رسالت کے بعد احکامِ خداوندی اور سیرتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اللہ کریم کے بر گذیدہ بندوں نے یہ سلسلہِ رشد و ہدایت اپنے علم، حلم، قول و فعل، اور برداشت و بردباری سے جاری و ساری رکھا۔ اُنھی برگذیدہ بندوں میں سے  ایک، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کی روشن کتاب میں سے ایک ورق  پیشِ خدمت ہے:۔


امام رحمتہ الله علیہ ایک دن شاگردوں کے جھرمٹ میں درس و تدریس میں مشغول تھے کہ ایک طالب یونس بن عبد الاعلی کو کسی نکتے پر اختلاف ہوا۔ شاگرد اتنے رنجیدہ اور خفا ہوے کہ کلاس کو چھوڑ کر گھر چلے گئے۔

رات کو یونس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوی، استفسار پر جواب آیا ’محمد بن ادریس‘۔یونس ہر محمد بن ادریس کو ذہن میں لاےسواے امام رح کے کہ ان کے نزدیک یہ ناممکنات میں سے تھا کہ امام اُس واقعے کے بعد ان کے گھر تشریف لاتے۔ در وا ہوا تو مبہوت رہ گئے کہ امام رح ہی بنفسِ نفیس دروازے پر موجود تھے۔امام اندر تشریف لاے اور  یونس سے فرمایا:۔

سوچا ہے کہ سینکڑوں مسائل پر ہم ایک دوسرے سے متفق ہیں پھر صرف ایک نکتہِ اختلاف نفاق کا باعث کیوں؟

ہمیں تنازعات و إختلافات میں ہمیشہ فتحیابی کے لئے ہی نہیں کوشاں رہنا  چاہیے بلکہ عارضی کیفیات و حالات کے اوپر دلوں کے جیتنے کو فوقیت دینا چاہیئے۔

شاگردِ رشید اپنے تعمیر کردہ اُن پُلوں کو کبھی مت گرنے دینا جنہیں کبھی تم نے استعمال کیا ہو گذرنے کے لئے۔ تمھیں اگر کبھی واپسی کا سفر در پیش ہوا تو وہ کام آئیں گے۔

میرے پیارےغلطی سے نفرت ضرورکرنا لیکن غلطی کرنے والے سے تعرض کبھی مت کرنا۔(اُس کی اصلاح کا موقع کھو دو گے)۔ 

 عزیز خود گناہ کے قریب بھی نہ بھٹکنا لیکن گناہ گار کے لیے اللہ کریم سے ہمیشہ رحم اور مغفرت طلب کرتے رہنا اور خود بھی اسے معاف کرنا۔ 

الفاظ میں کچھ غلط ہوا تو تقریر پر تنقیدکر لینا لیکن مقرر کا احترام کرنا نہ چھوڑنا۔ 

ہمارامطمع نظر ہمیشہ مریض کی شفا یابی اورمرض کا خاتمہ ہونا چاہیے نہ کہ مریض کی موت ۔ 

 

ایک خوبصورت سبق، بلند حوصلگی کی عمدہ مثال،اصلاح کا انمٹ جذبہ، شفقت اور محبت کی ادا، نفرت اور انتقام کے بجاے الفت و عفو، ذات کی نفی اور کردار کی بلندی سب کچھ ہے اس ایک واقعہ میں۔



الله کریم ہم سب کو بھی ایسی توفیقات عطا فرما دے۔ ٓآمین






AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Sunday, June 27, 2021

2:33 PM

جب سمجھ آتی ہے تو سمجھ آتی ہے ۔۔



زندگی کی مُٹھی سے
رِیت جَب نِکل جاۓ
بھید اپنے جیون کا
تَب سمجھ میں آتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے
اب سمجھ میں آتا ہے
پیار کی کہانی میں
کِس جگہ ٹہرنا تھا ؟
کِس سے بات کرنا تھی ؟
کِس کے ساتھ چلنا تھا ؟
کون سے وہ وعدے تھے ؟
جِن پے جان دینا تھی
کِس جگہ بِکھرنا تھا ؟
کِس جگہ مُکرنا تھا ؟
کِس نے اِس کہانی میں
کِتنی دور چلنا تھا ؟
کِس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا ؟
اب سمجھ میں آتا ہے
اُس نے جو کہا تھا سب
ہم نے جو ُسنا تھا تب
کِس طرح ہلے تھے لب
کِس طرح کٹی تھی شب
ہم نے ان ُسنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کِس قدر مکمل اور
کِس قدر ادھوری تھی
وہ جو اِک اِشارہ تھا
ذکرجو ہمارا تھا
وہ جو اِک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ہے

جان ہی کے دُشمن تھے
جان سے جو پیارے تھے
ہم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ہارے تھے
راہ جِس کو سمجھے ہم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جِس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کِس نے رَد کیا ہم کو ؟
کِس نے کیوں بُلایا تھا ؟
جِس کو اِتنا سمجھے ہم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا ؟


اَب سمجھ میں آتا ہے
اَب سمجھ میں آیا جب
زندگی اَکارت ہے
ایسی اِک بُجھارُت ہے
جو دیر سے سمجھ آئی
زندگی کے بھیدوں کو
ہم نے جب سمجھنا تھا
تَب سمجھ بھی آتی تو
ہم نے کَب سمجھنا تھا
آنکھ جَب پگھل جاے
اور شام ڈھل جاے
زِندگی کی مُٹھی سے
رِیت جَب نِکل جاے
بھید اپنے جیون کا
تَب سمجھ میں آتاہے
سب سمجھ میں آتا ہے





AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Tuesday, June 22, 2021

9:56 AM

تقوی اور صرف تقوی ۔۔ بازی گری نہیں ۔۔۔

سلام اور دعائیں


۔[ابتدائیے کے بغير]۔


 وہ علما اور دینی رہنما جو شریعت اور طریقت، علم اور حلم، وفا اور حیا، جہد و زہد، کی روشنی طریقہِ  محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قائم  رہ کر بکھیر رہے ہوں اور شعبدہ بازی و ریا کاری سے پاک ہوں تو ہماری نظریں اُن کے چہروں سے ہٹنی نہیں چاہییں کیونکہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ثقہ وارث ہیں۔  


لیکن جب ہم دیکھیں کہ وہ دنیاوی خواہشات، نفسانی خرافات اور شیطانی عادات میں ملوث ہو گیے ہیں تو اپنا دین اور ایمان بچانے کے لیئے اُن سےفوری دوری اختیار کر نا لازم ہے۔ 





اور مت پیروی کرو اُس کی جسے ہم نے اپنی ےیاد سے غافل کر دیا ہو اور وہ اپنی نفسانی  خواہشات کی اتباع میں حد سے گذر گیا ہو ۔ کہف 28



Ulema and Religious Leaders are trustees of Prophet SAWS only till the time they remain away from the forbiddens and worldly pursuits. When they indulge and become the disciples of Iblees WE MUST STAY AWAY FROM THEM TO SAFEGUARD OUR DEEN O EEMAN. 


And do not follow him whose heart We have made heedless of Our remembrance and who follows his desire and whose affair is ever [in] neglect - Kahf 28



AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz




Sunday, June 20, 2021

7:30 PM

ایامِ والدين (مدر ڈے ۔ فادر ڈے) اور ہم ۔ ۔ ۔

 سلام اور دعائیں ۔ ۔ ۔

دوستو یاد رکھنا، یاد کرنا اور یادوں کی بارات سجاے رکھنا انسانی فطرت ہے ۔ انہی یادواشتوں پر مبنی ہم مختلف ایام مناتے ہیں، خوشیاں بانٹتے ہیں اور شکرانہ ادا کرتے ہیں  ۔ آج صبح فجر کے بعد میرے بچوں نے مجھے  وش کرنا شروع کیا تو میں نے  پوچھا کہ آج کیا ہے ؟ معلوم ہوا کہ آج ’فادر ڈے‘ ہے۔ سوشل میڈیا بھی تصاویر، تہینیتی تحاریر اور ان گنت دعاوں سے لبریز ؛  سوچا کہ میں بھی اپنے بابا جی کو یاد کر لوں پھر خیال آیا کہ میں تو اپنے والدین کی ظاہری حیات میں اور حیاتِ برزخ میں بھی ہر دن، ہر شب اُن کو یاد کرتا ہوں، اُن کا شکر گذار ہوتا ہوں اور  اُن کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیےاللہ کریم سے گڑگڑا کے دست بادعا ہوتا ہوں ۔ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ جمیع مسلمین و مسلمات کے لئے  نمازِ پنجگانہ، فرائض، واجب،  سنت اور نوافل کی  ہر آخری رکعت میں مناجات کرتا ہوں:۔


اس کے علاوہ دن میں تقریبا تین دفعہ  خصوصی نفل پڑھتا ہوں اور ان کا ثواب خاتم النبیین، رحمتہ العالمین ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش کر کے اُنہی ﷺ کے واسطہِ جلیلہ سے آدم علیہ السلام سے لیکر روزِ قیامت تک آنے والی مومن ارواح کوارسال کرتا ہوں ۔ 

علاوہ ازیں صبح و مسا کے وظائف میں سے مسبعات العشر میں سات سات دفعہ مندرجہ ذیل دعا کرتا ہوں:۔



سالانہ ایک دن منانا بہت اچھا لیکن وظیفہِ ابراہیم علیہ السلام  پر عمل کرتے  ہوے ہر روز اور ہر لمحہ  اُس سے بھی زیادہ ضروری ۔ 

صدیوں پرانی سنت کی موجودگی میں نئی چیزیں کس بھاو کی۔ ۔ ۔

الله کریم توفيق دے۔ 

آمين بجاہِ سید المرسلين، خاتم النبين  ﷺ۔






AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Saturday, May 15, 2021

12:03 PM

ہر ظلم کی توفيق ہے ظالم کی وراثت ۔ ۔ ۔

 حال کے سب “المعتصموں”# کے نام ۔۔۔

تمھارے بغداد خطرات میں گھرے ہیں۔۔ تمھیں اُمڈتے سیلاب کا ادراک ہونا چاہیے ۔۔۔ (بدقسمتی سے نہ استعداد ہے نہ ہمت)۔ تمھارے سامنےانسانوں کے روپ میں درندے دندناتے پھر رہے ہیں۔ قتل و غارت گری سے روکنا تو درکنار ٹوکنے والا بھی کوی نہیں۔ 

تم ناتواں و ضعیف کانفرنس کا اجلاس اُس وقت بلاو گے جب مظلوموں کا چالیسواں ہو گا اور ان کی سر زمین ظالم درندوں کے پاوں تلے روندی جا چکی ہو گی۔ 






مقامِ مرگ ہے کہ تمھارے اخلاق سے مبرا طبلچی یہ طبلہ بجا رہے ہیں کہ “انھیں صرف اخلاقی مدد کی ضرورت ہے” ۔۔

ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت

مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ



(کم از کم اکٹھے ہو کر اجتماعی آواز تو بلند کر لیجیے)


جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو ظالموں کا رضاعی باپ اس وقت تک سلامتی کونسل کا اجلاس بھی نہیں ہونے دے گا جب تک “کام مکمل نہ ہو جاے”۔ 

شیخ سعدی علیہ رحمہ نے فرمایا تھا


جسے دوسروں کے مصائب کا احساس نہیں ہے وہ انسانیت کا غدار ہے۔ 


۔# آخری عباسی خلیفہ جس کے سامنے ہلاکو نے بغداد کو تاخت و تاراج کیا تھا۔





AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Friday, May 14, 2021

7:57 AM

رویتِ ہلالِ شوال المکرم ۔ کون غلط کون صیح ۔۔۔

 سلام، دعائیں اور عید مبارك۔ ۔ ۔


یہ بحث جاری ہے کہ عید کے چاند کی رویت کا اعلان صحیح تھا یا غلط اور راے تقسیم ہے۔



 

 اپنی دلیل کے حق میں ہماری قوم میانہ روی نہیں بلکہ “بُشی فلسفہ” پر کام کرتی ہے کہ 

یا تم ہمارے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ


سوال یہ ہے کہ اگر شوال کے شروع ہونے کی رویت صحیح ہے تو پھر رمضان شروع ہونے کا اعلانِ رویت شاید غلط تھا کیونکہ سارے عالمِ اسلام کو اللہ کریم نے تیس دن کا رمضان عطا فرمایا تو صرف اور صرف بے چارے پاکستانی مسلمانوں کو اُنتیس دن کا   کیوں؟؟


شوال کا چاند اگر اومان کے ساتھ قربت کی وجہ سے گوادر میں اور چمن میں افغانستان  کے ساتھ  قربت کی وجہ سے اپنی رونمای کرا سکتا ہے تو آغازِ رمضان کے لیے کیوں نہیں؟


ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے  نہیں، اللہ کریم کے سامنے سرخروی کے لیے  فکر کیجیے۔





AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Monday, May 10, 2021

11:51 AM

غلامیِ رسول ﷺ اور علامہ اقبال رح

سلام و دعا ۔ ۔ ۔ 


ایک غلام ملک کے اقلیتی گروہ سے تعلق۔ ساری اعلی تعلیم مغرب میں اور انگ انگ میں عشقِ رسول ﷺ

اور اس غلامی پہ فخر کیونکہ “خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ”۔



 جاننے والے کہتے ہیں کہ ادھرخاتم النبیین ﷺ کا مبارک نام اپنی یا کسی اور کی زباں پر آیا وہیں رقت طاری ہو گئی۔ جھڑی لگ گئی آنسووں کی۔ 

فرماتے ہیں کہ:-

تب و تابِ بتکدہءِ عجم نرسد بسوز و گدازِ من

کہ بیک نگاہِ محمدِ عربی (ﷺ) ، گرفت حجازِ من


عجمی چمک دمک میرے سوز و گداز تک پہنچ ہی نہیں سکتی کیونکہ میرے حجاز یعنی قلب و روح کو آقا ﷺ نے ایک ہی نگاہ میں اپنا غلام بنا لیا ہے


وہ اس لیے کہ  وہ آقا ﷺ کی صحبتِ پاک سے فیض یاب ہوتے تھے اور اس کا اظہار انہوں نے اپنے ایک خط میں یوں کیا

میرا عقیدہ ہے کہ نبیِ کریم ﷺ  زندہ ہیں اور اِس زمانے کے لوگ بھی اُن کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ رض ہوا کرتے تھے۔ لیکن اِس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں کو ناگوار ہو گا، اس واسطے خاموش رہتا ہوں۔

اور یہاں جو سورہ احد پوری پڑھ نہیں سکتے ’عشق اور حرمت‘ پر آوازے کستے ہیں اور پھر بھی محمدی ہیں ۔۔۔

ارے ہاں نہیں ارے ہاں نہیں

حرفِ آخر ۔ ۔ ۔ آج ستائیس رمضان المبارک ہے اور اللہ کریم نے اس مبارک دن کو  ہمیں پاکستان عطا فرمایا تھا۔ تقاضاِ رحمت تو یہ تھا کہ ہم اسے ’اللہ والی ریاست‘، بناتے اور ہمہ وقت پکارتے کہ ’المُلکُ للہ‘۔ یہاں قانون بھی خدای ہوتا اور پاسداری بھی سرکارِ مدینہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین والی لیکن واے حسرت حکمران مسلط ہوے تو کوتاہ بین اور کوتاہ اندیش، دنیا اور اسکی شہوات کے پجاری، جنہیں نہ دین کا علم نہ وعدوں کا پاس اور رعایا اتنی مجبور و مقہور  اور سوچنے سے عاری کہ اپنے اپنے سیاہ کار  کی لوٹ مار اور بدعنوانیوں کو بھی تمغہ سمجھتے ہیں اور ان کے لیے نعرہ زن ہونا دنیوی اور دینی فلاح کا باعث۔ اب بھی وقت ہے کہ رجوع کر لیا جاے تو  بگڑی بن سکتی ہے۔


  اللہ کریم بجاہِ رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور اس قدر والی رات کے صدقے ہم سب پر اورپاکستان پر رحم فرماے اور ہمیں ایسا بنا دے جیسے وہ کریم چاہتا ہے ایک سچے مسلمان کا ہونا۔ آمین





AKHTAR N JANJUA
http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz