AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Saturday, October 28, 2017

10:40 AM

POLYGRAPHING OF THE 'QAVIS' ..... جو چپ رہے گی زبانِ خنجر ۔ ۔ ۔

Salam and Duaien ...

Friends, this second decade 0f 21st Century has really been trend-setting ... So much has happened, so much has changed ... We may take decades to be where we want/ought to be, but monumental changes have occurred ... Quietly, without fanfare but history altering ... A long list ... to name only a few:-

  • The peaceful transition of power from one party to another.
  • The (almost) collapse of rural/urban/cosmopolitan terror infrastructure attained through Gigantic Sacrifices and Himalayan Tenacity by the Forces.
  • Unprecedented restraint exercised by the Armed Forces ... ... (in the face of Temptations, Extreme Provocation, and Unnecessary/Unwarranted Drag)
  • Highly proactive Judiciary under one IC and then to the present day Ice Cold Maturity.
  • Panama the Launchpad, JIT the Exceptional and Judiciary the Epitome of Resolve/Evenhandedness.
  • Some sustained Voices against the Vices, free from the Fear of Consequences of any sort/magnitude.  
Conversely, a whole lot of Injustices, Brutalities, Plunder, Murders (Of innocent People. Morals, Law, and Land) also stained this period ... But ... Slowly yet Certainly ... THE GRIND IS ON ...

Polygraphing of Selfie Stricken 'Abdul Qavi' is extremely SIGNIFICANT ... It should ring the ALARM BELLS ... ALL KILLERS of Innocents ..... 

... 'YOU ARE NEXT' ...


سہو ہو جائے تو پھر جان پہ بن آتی ہے
بزمِ اربابِ  ہنر میں نگرانی ہے بہت

اور


مکافاتِ عمل تاریخِ انساں کی روایت ہے
جبینِ کج کلاہی خاک پر خم ہم بھی دیکھیں گے



AKHTAR N JANJUA

Wednesday, October 25, 2017

4:56 PM

چور اور مشرق و مغرب کے متفرق ذہنی رویئے

سلام اور دعائیں

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک کرکٹ ایمپائر جو ایشائی ٹیموں کے ساتھ اپنے معاندانہ روئیے کے لیئے خاصی شہرتِ بد رکھتے تھے، چوری کرتے ہوے پکڑے گئے۔ جس سٹور پر ملازمت کر رہے تھے وہیں نقب بھی لگا رہے تھے۔  سچ ہے کہ چور چوری سے جاے لیکن ہیرا پھیری سے نہ جاے۔

یہ بدیسی چور کبھی پاکستانی بالروں پر "ٹیمپرنگ" کا الزام لگاتا تھا اور کبھی مُرلی کو "تھروئینگ" پر پکڑ لیتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعدشراب خانے پر نوکری کرتا تھا اور جوئے خانے میں روزانہ حاضری کی بری لت کی وجہ سے خرد برد پر مجبور ہوا۔ نہ جانے کتنے میچ اس نے ’فکس‘ کیئے ہوں گے؟ لیکن دیسی چوروں پر اُسے یقینا فوقیت حاصل ہے کہ اس نے جرم قبول کیا، معافی کا خواستگار ہوا، چوری کا مال لوٹایا اور اٹھارہ  ماہ کی سزا پائی۔

 چور دیسی ہوں یا بدیسی سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہوتے ہیں ۔ چوری اِن کی سرشت ہوتی ہے اور  جھوٹ اور فریب اوڑھنا بچھونا ۔ لیکن دیسی چور اضافی طور پر "نہ مانوں" کے اشتہار، شور شرابے کے ماہر، دلائل و استدلال سے کوسوں دُور ۔ یہ تلخ حقائق سے بھاگنے اور  اپنے منافقانہ  کرتوتوں کو چھپانے  کے لیئے بے دریغ طاقت، بے سر و پا جھوٹ ، پروپپیگنڈا اور ناجائز  پیسے کے استعمال کو قطعا معیوب نہیں سمجھتے ۔اسی لیئے تو اپنے یہاں کہتے ہیں ’چوری بھی اور سینہ زوری بھی‘۔

 دیسی چوروں کا ایک  ذہنی رویہ  اور بھی ہے کہ جرم کا اقرار نہیں کرنا، انصاف پہ اصرار نہیں کرنا، سچ  سے کوئی سروکار نہیں رکھنا بلکہ سچ کوطشت از بام ہونے سے روکنے کے لیئے کسی بھی ہتھکنڈے کو بروئے کار لے آنا ہے، یہ موقع کی موافقت سے اور وقت کی مناسبت سے ’دھو‘ بھی سکتے ہیں اور ’رو‘ بھی (تا کہ وہ جو کچھ کر سکتے ہیں، پکار اٹھیں "نہ رو" یعنی این آر او)۔


پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے
رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا
   

اور دیسی رعایا کی حالت:۔


خدا کرے کہ سلامت رہیں ندیم مرے
تمام عمر پڑی ہے فریب کھانے کو





اختر جنجوعہ

Saturday, October 21, 2017

6:36 PM

NOTHING BUT 'THE PRESCRIBED PATH' SHALL WORK !

Salam and Duaien !

Decay and Decline ... 

Truth Sobs, ... 

Transparency lynched by the Mobs ...

Institutions under attack ...

Births on the Pavements ... 

Deaths on the Roads ... 

Dirty Linen Washed on the Wavelengths ... 

State Complains ...  Accused Abstains ... Indicted put everything in the Drain ... and ... The State Machinery goes into overdrive to make everything IN VAIN  ... 

Some Wizards in THE CORRIDORS deliberately encroach into the  RED LINES to please Heavens know whom?

Circumstances dictate, Huddling up, Looking deep down inside, Rediscovering the Positivity,  Tolerance, and Respect, Tearing apart the Walls of Selfishness, Hate, Lie, and Deceit . . . 

مثبت تبدیلی، رویوں پر نظرِ ثانی کی متقاضی ہے۔

مقام و تقدیسِ ناموسِ رسولِ پاکﷺ اور آدابِ معاشرت کے لئیے سارا قرآنِ مجید ہے لیکن کم از کم سورہ الحجرات، کا باترجمہ 
مطالعہ بلغور ضروری ہے۔ 

اُستوانِ دین و ایمان پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کئیے بغیر روئیوں کو تبدیل کرنا ہو گا،

 عمل سے  رُتوں کو بدلنا ہو گا

  عقل سے رکاوٹوں کو عبور کرنا ہو گا

 عشق سے عَلمِ مصطفی کریم ﷺ کو سر بلند کرنا ہو گا۔

 اللہ کریم کی زمین پر اللہ کریم ہی کا عطا کردہ نظام نافذ کرنا ہو گا۔ 


اگر فلاح پانی ہے تونظامِ مصطفی کی  راہِ  اپنانی ہے۔  


ہوا کے پر کترنا اب ضروری ہو گیا ہے 
 پرواز بھرنا اب ضروری ہو گیا ہے 

ہمارے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں 
یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے 






Akhtar N Janjua

Tuesday, October 17, 2017

1:44 PM

A CRIME IN WHICH SOCIETY HAS A DIRECT INTEREST !

Salam and Duaien . . . . 

Let us enjoy the wisdom in this beautiful quote :
"Magnanimity in politics is not seldom the truest wisdom; and A GREAT EMPIRE and LITTLE MINDS go ILL-TOGETHER."
One of the lead stories in the Newspaper in front of me is about the proposed National Accountability Commission Bill (قومی احتساب بل کا مسودہ). Brilliance all around ... 

  • Accountability Courts shall be destined to the dustbin of history ... and why not ... how dare someone summons the mighty chosen ones ...
  • Ten years old cases shall be taken as these never existed ... Simple, after DOING THE THING WHICH THEY DO BEST, they can go to their adopted homelands and come back after ten years to START AFRESH ...
  • Once a Reference has been filed in a Sessions Court, even SCP shall not have the jurisdiction to interfere or affect a Review  ... 'They' should mind their steps and business too ...
  • Perjury, Lies, and Deceit shall be pardonable offenses ... ITS A JUNGLE OUT THERE ...
  • If some 'honorable' does not clear his dues (aka a deliberate Bank Default) ... Handpicked Governer State Bank only shall have the guts (if he had ever) to file the Reference ... to cull this recent acquisition of every T, D & H pointing a finger towards the untouchables ... 
  • Off late, the poor, Always Acting in Good-Faith, State-Serving, Self-Less, Honest to the Bones, Ministers are being harassed non-stop ... The new dispensation shall rid them off from this Sword of Damocles once for all ... Henceforth IN GOOD FAITH (A PERPETUITY WITH THEM ALL) even if they commit Murder against the State and Slaves ... NO CULPABILITY WHATSOEVER ...
  • The Plea-Bargain shall be no more ... (Whatever I have is mine and what little you have is also mine ... جو میرا ہے وہ میرا ہے اور جو تیرا ہے وہ بھی میرا ھے) ...            
AND WE LIVE IN the 21ST CENTURY ... انا للہ و انا الیہ راجعون ...

... and why SOCIETY in the Subject ??? The following Quote is self-explanatory ...
"Murder is unique in that it abolishes the party it injures, so that SOCIETY has to take the place of the victim and on his behalf demand atonement or grant forgiveness; it is the one crime in which society has a direct interest."


AKHTAR N JANJUA 

Monday, October 16, 2017

2:06 PM

کبھی کبھی ہاں ۔ ۔ ۔ ہمیشہ کبھی نہیں !

سلام اور دعائیں

کل کی پوسٹ انگریزی میں تھی  جس پر ایک دلچسپ تبصرہ آیا، "بے شک ۔ ۔ اردو لائن کی سمجھ آئی مجھے تو"، وہی پوسٹ اردو میں لکھنے کی کاوش آپ کے سامنے ہے۔

ہم سے خطائیں سرذد ہوتی ہیں

 دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کا ارتکاب ہوتا ہے

 خوفناک نتائج کی حامل غلطیاں  ہوتی ہیں اور بعض شرارتیں المناک حادثات کا سبب بن جاتی ہیں۔

 انسان خطا کا پتلا  ہے، ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن  بے احتیاطی سے خطا در خطا باعثِ ندامت و  ہزیمت۔ نیک نیتی میں سرذد والی غلطی سود مند تجربے  کی بنیاد، دانستہ غلطی خطرات و نقصان کی پیش خیمہ اور بغض و عناد سے ابھرنے والی شرارت  خود کو اور دوسروں کو ڈبونے کی خوف ناک صلاحیت رکھتی ہے۔

 نادانستہ خطا سزا کی سزاوار نہیں ہوتی ۔  خطا کار کو سبق سیکھنا چاہیئے، ندامت کا اظہار کرتے ہوے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیئے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ صرف اظہارِ ندامت ناکافی ہو اور ایک واضح تبدیلی اطوار میں، کردار میں اور افعال میں ضروری ہو جاے۔

دانستہ خطائیں اور شرارتیں البتہ مصیبتوں کی ہم نشیں ہوتی ہیں۔ زبان اور اعمال ان کے محرک ہوتے ہیں۔ اس لئیے زبان اور اعمال کا متواتر ذاتی مشاہدہ اور محاسبہ بہت ساری قباحتوں سے بچا سکتا ہے۔ ورنہ صحرا نوردی مقدر بن جاتی ہے، تاریخ کا سبق یہی ہے۔

یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ اظہارِ ندامت کبھی کبھی کام آ سکتا ہے لیکن دائمی نہیں لہذا احتیاط لازم ہے۔

ہمارے اظہارِ ندامت پر جو جواب آتے ہیں ان کا بھی گہرائ سے دیکھنا لازم ہے۔ ان کے معنی و مطالب ہوتے ہیں۔

جب کوئ کہتا ہے ’کوی بات نہیں‘ تو اس کے پیچھے تھوڑا سا درد ضرور ہوتا ہے، اس درد کی پہچان ایک اچھا انسان بننے میں معاون بن سکتی ہے۔

اگر سننے کو ملے کہ ’مجھے کوی پروا نہیں‘ تو اس کے اندر بلکتے جذبات کو ضرور محسوس کیجئیے۔

اور اگر جواب آے کہ ’میں تو یونہی مذاق کر رہا تھا‘ تو اس کے پہلو میں جو تھوڑا سا سچ ہوتا ہے اسے نظر انداز مت کریئے۔


اور آخری بات کہ:۔

نقیبِ محفل کے پکار اُٹھنے سے پہلے کہ "مزید غلطی کی گُنجائش کو نا" سنبھل جانا ہی سمجھ داری ہے



اختر جنجوعہ

Sunday, October 15, 2017

5:43 PM

SOMETIMES MAY BE ... ALWAYS NEVER!

Salam and Duaien

We Err, Make Mistakes, Commit Blunders, Crave and Carve Mischiefs ...

To Err is human ... we all do ... TO PERSIST IS RECKLESS ... To make a Mistake in the right earnest is Learning ... TO INDULGE IN DELIBERATE BLUNDERING IS DETRIMENTAL ... and ... Mischiefs can be VICIOUS ... 

An Error would stay an Error till obstinacy renders it a Blunder or a Mischief ...

Mistakes happen, corrective action should overrule punishment ... Committer, however, must raise his hand ... own it ... SAY SORRY ... Learn the Lesson and ... Move on ... There can be occasions, though, where SOMETIMES just a SORRY may not be enough ... A DEFINITE CHANGE MAY BE THE REQUIREMENT ...

Blunders and Mischiefs can send us scurrying for the cover ... Tongue and Steps, therefore, ought to be watched ... Both possess the potency to destine the doer to Wilderness ... The History says so ...

SORRY may work for SOMETIMES ... but ... NOT ALWAYS ... Responses it generates are meaningful ... correct perception can correct and connect to the right path ...
There is always a little PAIN behind every “IT’S OK.” 
There is always a little EMOTION behind every “I DON’T CARE.” 
There is always a little TRUTH behind every “JUST KIDDING.”


نقیبِ محفل کے پکار اُٹھنے سے پہلے کہ "مزید غلطی کی گُنجائش کو نا" سنبھل جانا ہی سمجھ داری ہے   



AKHTAR N JANJUA

Saturday, October 14, 2017

12:57 PM

ٹُر گئیے بندے، لنگھ گئیے ویلے!

سلام اور ڈھیروں دعائیں

ہُن انھے راجے ۔ ۔ ۔ مجبور پرجا

کوئ زیادہ پرانی بات نہیں ۔ ۔ ۔ چار پانچ عشرے پہلے، تناسبِ خواندگی اتنا ہی کم تھا جتنا کہ سکول کم تھے ۔ ۔ ۔ میں نے خود میٹرک ایک ایسے ہائ سکول (گورنمنٹ ہائ سکول بوچھال کلاں) سے کیا جو تقریبا آج کی صوبائ اسمبلی کے ایک پورے حلقے کی واحد مستند درسگاہ تھا۔

بابے اور بابیاں پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے لیکن گُڑھے ہوے ضرور تھے ۔ ۔ نبض شناس ۔ ۔ مشاہدے کے دھنی ۔ ۔ حالات دیکھتے اور آنے یا ہونے والے واقعات کی سو فیصد نقشہ کشی کر دیتے۔

گردا پڑا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ کہیں قتلِ ناحق ہو گیا ہے

راہی ڈھیری سے گھٹا اُٹھی ہے ۔ ۔ ۔ بارش ضرور ہو گی

دکن سے قطب ہوا چل پڑی ہے ۔ ۔ ۔ جھکڑ آندھی ضرور آئیں گے

سفید رنگ کا ایک گدھ منڈلا رہا ہے ۔ ۔ ۔ کتھے کوئ دھرنگا پیا ہویا اے

افواہ اے کہ ہلکے کتے آ گئیے نیں ۔ ۔ ۔ نیلانی دا نیل پھٹ گیا اے

کوے پیپل کے درخت پر لوٹ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ شام پڑنے والی ہے

انوکھے لاڈلے تب بھی ہوتے تھے جو کھیلن کو مانگتے تھے چاند ۔ ۔ ۔ اُن کے لئیے بڑے بوڑھے کہتے تھے ۔ ۔ ۔

کھاون پیون چنگا دیو پر نال اذمیت (آدمیت) بھی دیو

جہڑا کُچھڑ چڑیا ڈھوے اُنہوں ڈھن دیو


مکان پر چڑھ کر نیچے چھلانگ مارنے کی دھمکی دینے والے کی مِنتیں کرتی بلکتی ماں کو کوئ بزرگ پیچھے مجمعے کے ساتھ کھینچ کر آواز لگا دیتا تھا ۔ ۔ ۔

مار چھال مینڈھیا پُترا ۔ ۔ ۔ ۔ 

اور پھر ۔ ۔ ۔

چلی رے چلی رے چلی ررررےےےےے،
بڑی آس لگا کر چلی رے
میں تو دیس پیا کے چلی رے 


دند سے پہلے پہلے پیچھے لوٹ آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ واپسی کے رستے بند ہو جائیں تو ۔ ۔ ۔ 


علاجِ چاک ِپیراہن ہوا تو اس طرح ہوگا 
سیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے

نظر لپٹی ہے شعلوں میں لہو تپتا ہے آنکھوں میں 
اٹھا ہی چاہتا ہے کوئی طوفاں ہم نہ کہتے تھے 





اختر جنجوعہ