AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Monday, August 29, 2016

1:59 PM

کہیں ہم ’اُس زمانے‘ میں تو نہیں ہیں ؟؟؟؟؟

سلام اور دعائیں

 جامع ترمذی کی ایک انتہای جامع حدیثِ پاک پڑھنا نصیب ہوئ تو دل و دماغ وہیں جم کر رہ گئے۔ بقول حضرت بہزاد لکھنوی ’دل وہیں رہ گیا جاں وہیں گئی ۔ خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی‘ ۔ حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کا بیان آپ بھی دل تھام کر پڑھیے اور پھر سوچیے کہیں ہم اُسی زمانے میں تو نہیں رہ رہے ؟؟؟؟ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم  
نے فرمایا :۔

جب لوگ مالِ حکومت کو ذاتی مال سمجھنے لگ جائیں
امانت کو غنیمت اور زکوٰة کو ٹیکس سمجھیں
علمِ دین دوسری اغراض پوری کرنے کے لیئے حاصل کریں
بیویوں کی اطاعت اور ماوؐں کی نافرمانی کریں
دوستوں کو قریب رکھیں اور باپوں سے دور ہو جائیں
مساجد سے بے مقصد آوازیں گونجیں
بدکار لوگ قوم کے قائد بن جائیں
سب سے بڑے کمینے کو ملت کی ذمہ داری سونپ دی جاے
کسی کی عزت اُس کے ’شر‘ کے خوف سے کی جاے
رقاصائیں رقص کریں اور موسیقی عام ہو جاے
بادہِٗ خر مست کے جام لنڈھاے جائیں
پچھلے اگلوں پر لعنت کریں
تو پھر انتظار کرنا :۔

سرخ ہوا کا
زلزلوں کا
دھنس جانے کا
صورتیں بدلنے کا
پتھر برسنے کا 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مسلسل نشانیوں کا

استغفراللہ ۔ ۔ ۔ الامان و الحفیظ ۔ ۔ ۔ اللہ کریم ہمیں غور و فکر اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرماے ۔ آمین




AKHTAR N JANJUA
https://www.facebook.com/akhtar.janjua
http://anjanjua.blogspot.com/ 
https://twitter.com/IbneNawaz





 
 


 
    
 

Saturday, August 27, 2016

12:02 PM

سدا سلامت پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ تا قیامت پاکستان !

پاکستان زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

جیوے وطن ۔ ۔ ۔ ۔ مٹیں دشمن

ازلی دشمن تو خیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن بد نصیب ہیں وہ تمام  نمک حرام جنہیں عزت، شہرت، شان، طعام اور پہچان تو پاکستان نے دی، جو کھائیں تو پاکستان کا اور بھونکیں دشمنوں کے اشاروں پر ۔ ۔ ۔ ۔ لعنت ہزار بار ، باربار اور لگا تار ۔ ۔ ۔
  
  تقاضا وقت کا ہے کہ تمام مجبوریوں کی رسیوں کو کاٹ پھینکا جاے،   مصلحتوں بھرے لباس چاک کر دیئے جائیںاوراُٹھ کھڑے ہوں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوے   ۔۔  ہر دشمنِ وطن کو پہچانا جاے اورپٹخ دیا جاے ہر مردود کو ۔ ۔  

اب ہو وفا بھی پاکستان کی خاطر اور جفا بھی پاکستان کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ 

لیکن صرف نعروں پہ کارواں نہیں چلے گا، سچا اور سُچا عمل ہی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے ۔

 جان رکھیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں اس لئے پاکستان پر سب کچھ قربان ۔

ایمان بھی یہی

عرفان بھی یہی

 ایقان بھی یہی

امانت بھی یہی

سچای بھی یہی اور ہم سب کی ضرورت بھی یہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


 اور رہنمایانِ ملت، پاسدارانِ قوم اور عبقریانِ اُمت، تمھارا ہر عمل، تمھاری خاموشیاں، تمھارے مصلحتیں، تمھاری مجبوریاں  اللہ کریم بھی دیکھ رہا ہے اور تاریخ بھی اپنا قلم لے کر بیٹھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

 مکافاتِ عمل سے نہ کوی بچا ہے نہ کوی بچے گا ۔ رہے نام پاک پروردگار کا۔



تاہم یقینی بات یہ کہ انشا اللہ

یہ ہمارا خوبصورت پاکستان

اِس کی پھول وادیاں

اِس کے میٹھے کھیت، معطر فضائیں

اِس کے سر بفلک پہاڑ، سر سبز میدان، تا حدِ نظر صحرا

اِس کی فردوس لہریں، تسنیم موجیں

اِس کی کوئل کی کوکیں، بلبل کے نغمے

اس کے مچلتے دریا، رنگین موسم

 اس کے شہید، اس کے غازی، اس کے کے ان تھک مزدورو کسان و جوان

سب رہیں گے۔ 

انشا اللہ ۔

  
مٹیں گے تو اِس کے دشمن اور دشمنوں کے آلہِ کار ابنِ اُبی کے پیروکار ۔ ۔ ۔ ۔

سدا سلامت پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ تا قیامت پاکستان



میں مطمٗئن ہوں اگرچہ خراب ہے ماحول
خزاں کے بعد کا موسم بہار ہوتا ہے 

 
       

Wednesday, August 10, 2016

9:58 AM

فریادِ پاکستان !

SALAM AND DAUIEN !
 
 
On 10th August 2013 my Face Book status read :

"CARNAGE ALL AROUND ! WILL SOMEONE MIND?

Be who you are and say what you feel, because those who mind don't matter, and those who matter don't mind.”

3 years down the line, despite the monumental sacrifices by the security forces, (SELECTIVE ILLUMINATION OF TARGETS TO THEM AND 'CLEAR DEMARCATION OF NO GOs' LIMITED THEIR SCOPE AND SUCCESS) .....

KILLERS STILL KILL ....

ENEMIES ACT AT WILL ....

LEMMING FACTOR REIGNS AND 'RULE' IS .....

FOLLOW THE REHEARSED DRILL ..

SURFACE, CONDEMN, SUBMERGE AND CHILL..

..... and then one comes across certain tweets from a certain 'somebody' .... if true ....... GOD BLESS PAKISTAN ......


وہئ رہبر، وہی قاتل، وہی منصف ٹھرے
اقربا میرے کریں خون کا دعویٰ کس پر



 
DHERON DUAIN

AKHTAR N JANJUA

https://www.facebook.com/akhtar.janjua
http://anjanjua.blogspot.com/ 
https://twitter.com/IbneNawaz

Wednesday, July 27, 2016

6:47 PM

SOLDIERS - SACRIFICES - SADNESS !

 Salam and Duaien

Two more trained soldiers martyred ... Scores  sacrifice their lives daily for the security of their compatriots...
Few more orphans , widows and ruined families join the existing thousands ...


Anyone who volunteers to be a Soldier knows that the game he has chosen to play is DYING AND KILLING in defense of the motherland on the borders against a well-known enemy. It remained so till the 'FIRST US (AFGHAN) WAR AGAINST USSR'. We were 'asked' to be the 'Flag Bearers' and 'WARRIOR REARERS' and we did that with aplomb.

 
The rules of the game changed with the disintegration of US Cold War enemy. Countries and people 'used' were abandoned overnight, till the advent of 'SECOND US (BUSHY BLAIRY) {AFGHAN} WAR AGAINST THE WARRIORS OF THE FIRST WAR'.. "Napkins" again wrapped around the necks for absorption of the blood drops and throw ups... The US started Droning from lands far off and in the process Draining the blood of 'wanteds' and innocents . Abandoned Warriors could do nothing to the US, hence they shifted the FIRE to the erstwhile launchpad country and local hyenas from Kemari to Landi Kotal joined in.
 
Power shunning, wealth hating and "Honest to the Hides" 'LEADERS OF THE MASSES' .. handpicked and launched by the then military dictator have become 'Professionals'. Hardcore trigger happy warriors and reorientation of the US provided the opportunity to the enemies of Pakistan both external and internal to seize the moment, doing everything possible to inflict damage, distress, and death. Karachi, the most peaceful cosmopolitan city had already been converted into a den for the mafias since the mid-80s, where every crime has been THE RULE OF THE DAY since. 


Religious bigots tasted blood, unbridled power, paisa and got the break to send their young charges to Jannah via suicidal explosions. The country remained in the grips of DEMONS OF DEATH until the start of Operation ZARB-E-AZAB with concurrent use of Rangers in Karachi. Operations got the unprecedented support and approval of the general public, while success and sacrifices marched on, hands in glove. On the other side, political landscape  remains generally occupied in washing Pajamas, obscuring Panamas and creating Hangamas.


While the Armed Forces keep doing their stuff with singular dedication, making the supreme sacrifices regularly, constant efforts remain afoot to make them controversial. Rangers' powers are extended every time after a lot of machinations, NAP has never been fully implemented,  the shelter is provided to the criminals and Federation stands to lose because it seems that crime and criminals exist only in certain parts of the country and other provinces/areas have no issues at all. 


About the Deceit, Corruption, and LIES ...... lesser said ..........

'The rules are simple:
They lie to us,
We know they are lying,
They know, we know they're lying,
But they keep lying to us, and;
We keep pretending to believe them.'


Question is for HOW LONG ?????????
 

DHERON DUAIN

AKHTAR N JANJUA

https://www.facebook.com/akhtar.janjua
http://anjanjua.blogspot.com/ 
https://twitter.com/IbneNawaz 

Monday, July 25, 2016

12:40 PM

غنیمت سمجھیئے اندھیروں میں گھری اس ذرا سی روشنی [زندگی] کو :۔

سلام اور دعائیں  ۔

کل والے اردو ترجمہ کی پذیرای دیکھنے کے بعد آج کی پوسٹ کا ترجمہ پہلے حاضر ہے ، انگریزی میں انشاء اللہ کل ۔

اللہ کریم نے قرانِ حکیم میں فرمایا ہے کہ انکار کرنے والوں کے اعمال :۔
   اس گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مانند ہیں جسے موج نے ڈھانپا ہوا ہو (پھر) اس کے اوپر ایک اور موج ہو (اور) اس کے اوپر بادل ہوں (یہ تہ در تہ) تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جب (ایسے سمندر میں ڈوبنے والا کوئی شخص) اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے (کوئی بھی) دیکھ نہ سکے، اور جس کے لئے اللہ ہی نے نورِ (ہدایت) نہیں بنایا تو اس کے لئے (کہیں بھی) نور نہیں ہوتا۔
النور : 40
 ہم میں سے اکژیت کو معمولات اور معاملات کی تاریکیوں نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے، حالانکہ  زندگی جو گھپ اندھیرے سے ہمیں اجالے میں لے کر آتی ہے اور اپنے اختتام پر پھر ایک اور ان دیکھے اندھیرے کے حوالے  کر کے چلی جاتی ہے، اس لئے ہے کہ ہم اس محدود مدت میں اتنی روشنی کو ذخیرہ کر سکیں کہ آنے والا ان دیکھا اندھیرا اس سے ہمیشہ جگمگاتا رہے ۔  ظلمات کے محاصرے میں گھری روشنی کی یہ کرن[زندگی] ایک اور ازلی دشمن کی پھونکوں کی زد میں بھی ہمیشہ رہتی ہے کیونکہ اس[شیطان] نے اسے تاریک رکھنے کا چیلنج دیا ہو ہے ۔

جس اندھیرے سے انسان آتا ہے اُس پر تو اس کا کوی اختیار ہو ہی نہیں سکتا لیکن جس اندھیرے میں اُسے جانا ہے اُس کا اُسے اچھی طرح معلوم ہے کیونکہ موت اس کائنات کا ایک غیر متنازعہ سچ ہے ۔ پھر بھی چند دنوں کی روشنی کی چکا چوند، ازلی دشمن کی پُچکاریاں اور’اگلا جہاں کس نے دیکھا ہے‘ کا فریبِ نظر اُسے یومِ الست کا وعدہ اور سزا و جزا کا اٹل میدان و میزان سب کچھ بھلا دیتے ہیں ۔ اور پھرامر ظلمتیں وہ اپنے ہاتھ سے اپنا مقدر کر لیتا ہے ۔

تو ضرورت یقیناً اس امر کی ہے کہ وہ سب کچھ کیا جاے جو اس مختصر زندگی کو ابدی روشنیوں سے منور کر دے
  
 وہ روشنیاں جو قبر میں چراغاں کریں
 حشر میں راحت کا ساماں کریں
 پلِ صراط کا سفر تاباں کریں
حصولِ خوشنودیٴِ خدا و رسولؐ کو آساں کریں ۔


بلکل ممکن ہے؛

کیونکہ اِس کے حصول میں اللہ کریم کی رحمت اور رسولِ پاک صلی اللہ و علیہ وسلم کی شفقت ہر لمحہ شامل،حال رہتی ہے ۔ بقول علامہؒ "ہم تو مائل بہ کرم ہیں" ۔  اللہ کریم توفیق دے ۔ آمین


اختر نوازجنجوعہ


https://www.facebook.com/akhtar.janjua
http://anjanjua.blogspot.com/
https://twitter.com/IbneNawaz 
      

       
 

Sunday, July 24, 2016

2:23 PM

اُسوہ حُسنیٰ اور مسلمان !

سلام اور دعایئں  ۔ چند دوستوں نے یہ تقاضا کیا ہے کہ کل والے بلاگ کا اردو ترجمہ کیا جاے، یہ کاوش اسی سلسلے میں ہے۔

اللہ کریم نے قرانِ حکیم میں فرمایا ہے :۔
فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے، [الاحزاب ۔۲۱]۔

اگر ہم اپنے سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا ہم اُسوة حَسنیٰ پر چل رہے ہیں تو اکثریت کا جواب یقینی نفی میں ہو گا۔ آج ہماری اجتماعی حالت کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ غلط کام دنیا کے کسی کونے میں ہو الزام کی زد میں ہم مسلمان آتے ہیں۔ اور ہم میں سے کچھ تو برق رفتاری سے کردہ یا ناکردہ جرم کی ذمہ  قبول کرنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔

غلط کاموں اور گناہوں میں ملوث ہونا نبی پاک صلی اللہ و علیہ وسلم کا طریقہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ انفرادی طور پر اور اجتماعی طرح سے بھی اکثریت کا سیرة پاک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔۔۔ آج کرہ ارض پر کون سا اسلامی ملک یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وسلم پرنظامِ حکومت چلا رہا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے زمانے کی حدود و قیود سے ماورا ایک معائدہ رقم فرمایا تھا کی جس کا نفاذ آج بھی دنیا بھر کے دساتیر کو کالعدم قرار دے دے۔ اور جس کے متعلق آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا تھا کی اس معائدہ کی تنسیخ کے لیئےاگر مجھے سرخ اونٹ بھی پیش کیے جائیں تو میں انھیں ٹھکرا کر معائدہ کی پابندی کرونگا اور کوئ اور بھی ایسے معائدہ کا خواہشمند ہوا تو اس کو بھی شامل کرونگا۔

سارا معائدہ کیا اس کی صرف دومندرجہ ذیل شقیں جو کہ حلف کے طور پر دہرای گیئں تھیں اگر لاگو کر دی جائیں تو دنیا امن و محبت کا گہوارہ بن جاے ۔
ہم ہر مظلوم کے ساتھ اور ہر ظالم کے خلاف ہمیشہ متحد اور متحرک رہیں گے ۔
 ہم معیشت اور دولت کی تقسیم میں مساوات قائم رکھیں گے ۔
اور یہی فرمان اللہ کریم کا بھی ہے ۔ فرمایا قرانِ مجید میں ۔
اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے۔ [النسا ۔ ۱۳۵۔]
جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور ان سے کہا جائے گا) کہ یہ وہی (مال) ہے جو تم نے اپنی جانوں (کے مفاد) کے لئے جمع کیا تھا سو تم (اس مال کا) مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے،  ۔ [التوبہ ۔ ۳۵۔]

آج تھوڑا سا اضافہ کہ اتباعِ رسول پاک صلی اللہ و علیہ وسلم کا ایک عظیم ترین اجر بھی ہے اور وہ ہے اللئ کریم کی محبوبیت کا حصول اور گناہوں سے معافی ۔۔ اللہ فرماتا ہے ۔

(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔ [آلِ عمران ۔ ۳۱۔]  
اس دعا کے ساتھ کہ اللہ کریم ہمیں رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی سچی اور دلی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما دے ۔ آمین



اختر نوازجنجوعہ
 

، 
 
 

Saturday, July 23, 2016

1:09 PM

THE WAY OF THE PROPHET ؐ .... AND WE !

SALAM & DUAIEN !

It is in Quran :
VERILY, in the Apostle of God you have a good example for everyone who looks forward [with hope and awe] to God and the Last Day, and remembers God unceasingly. AL-AHZAB (33) : 21
Are we? AN EMPHATIC NO.... Anything wrong, anywhere in the world .... WE ARE BLAMED ..... and some who call themselves Muslims hasten to accept the responsibility... This is not the way TAUGHT AND PRACTICED by RASOOLULLAH ؐ. 

Within the Islamic world which country can boast of following the Ways of the Prophet of Allah???

History tells us that Rasoolullah  ؐ  had signed an 'AGE' defying agreement which even if adopted today shall render all the so called CONSTITUTIONS irrelevant ... and about which He ؐ had said that to cancel the agreement if herd of red Camels is offered to me, I shall decline that and stand by the agreement. Only two stipulations (which were spelled as an oath) of that historical agreement can guarantee the justice and peace in the entire world :
WE SHALL ALWAYS STAND WITH THE OPPRESSED AGAINST THE OPPRESSOR, UNITED AND ACTIVE.
WE SHALL REMAIN FIRM AND JUST ON EQUAL DISTRIBUTION OF WEALTH.
Quran on same lays down :
O YOU who have attained to faith! Be ever steadfast in upholding equity, bearing witness to the truth for the sake of God, even though it be against your own selves or your parents and kinsfolk. Whether the person concerned be rich or poor, God's claim takes precedence over [the claims of] either of them. Do not, then, follow your own desires, lest you swerve from justice: for if you distort [the truth], behold, God is indeed aware of all that you do. AN-NISA (4) : 135.
on the Day when that [hoarded wealth] shall be heated in the fire of hell and their foreheads and their sides and their backs branded therewith, [those sinners shall be told:] "These are the treasures which you had laid up for yourselves! Taste, then, [the evil of] your hoarded treasures". AT-TAWBA (9) : 35.
I beseech Allah Karim that may the QURAN and THE WAY OF RASOOLULLAH  ؐ be our WAY ALL THE WAY. AAMEEN.




DHERON DUAIN


AKHTAR N JANJUA

https://www.facebook.com/akhtar.janjua

http://anjanjua.blogspot.com/
https://twitter.com/IbneNawaz