Akhtar N Janjua
http://anjanjua.blogspot.com
https://twitter.com/IbneNawaz
Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.
شَور ہے ہو گئے دُنیا سے مسلماں نابُود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود؟
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اللہ ۔ سب مانتے ہیں لیکن اُس خالق و مالک سے نہ حیا ہے، نہ وفا ہے، نہ اُس کا خوف ہے نہ اس کو جاننے کا شوق ہے ، نہ اس سے ملنے کا یقین ہے اور نہ بخشش کی طلب ۔
فرشتے ۔ نہ ان کے نام معلوم نہ ان کے کام۔ کون ہیں، کس لیے ہیں؟ ایمان ان پر ضروری کیوں ہے؟ جاننے کی نہ فرصت ہے نہ اشتیاق ہے۔
کُتب ۔ پرانی تو پرانی ۔ ان سب کا نچوڑ حکمت و وعید و بشارت و احکاماتِ صریحہ کا بے بدل و یکتا بحرِ عظیم ۔نہ اس سے شغف، نہ سمجھنے کی جستجو، نہ عمل کی سعی۔ حوالہ جات کے لیے، ریاکارانہ (نا)علمی رعب جھاڑنے کے لیے اور آسیب اتارنے کے لیے ۔ قران طاقوں پر اور مطالعہ، استفادہ، عمل اور یقین سفلی اور جعلی بیاضوں پر۔
رسول ۔ ہر کام ان کی سیرت و تربیت کے خلاف۔ ان کی اہانت اور ان کے لیے اظہار خباثت پر بزدلانہ خاموشی، ریاکارانہ اعانتِ مجرمان کیونکہ ان کے ناموں اور کاموں پر فدا ہونے والے مدت ہوی عنقا ہو چکے۔ موجود کی اکثریت مردود اور ابلیسی دُوت۔
یومِ آخرت ۔ زیادہ تر تو یہ زعم رکھتے ہیں کہ “اساں مرنا ناہیں”۔ اور اگر مرنے کا سچ شرفِ قبولیت پا بھی جاے تو آخرت؟ نہ نہ ۔ ۔ ۔
تقدیر ۔ یزدانی تقدیر نہیں یہ اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کی تقدیر بگاڑنا چاہتے ہیں۔ منہ کے بل گرتے ہیں، عذاب اور وعیدیں گھیرا ڈالے رکھتی ہیں لیکن اندر کی فرعونیت اور فانی طاقت سمجھنے کی توفیق ہی سلب کر لیتی ہیں۔
بعثِ بعد الموت ۔ ان کے اجداد کا بھی یہی یقین تھا کہ “بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا” اور ان کا بھی یہی وطیرہ ہے ۔ بھولے ہوے ہیں ۔ اُٹھنا بھی ہو گا اور تھوبڑے پر مہر بھی لگے گی، اعضا بڑھ بڑھ کر گواہی دیں گے۔
۔۔نتیجہ ۔۔
وبالِ اعمال، مسلط عمال، جن کے کارنامہ ہاے کمال، باعثِ دینی و دنیوی زوال، نہ عزت محفوظ، نہ جان نہ مال، سازشوں کے جال میں الجھے عصری دجال ۔ ۔ ۔
کاش ہم سمجھ سکیں :۔
وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْم
اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن دوبارہ زندہ کیا جاے گا، جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، بجز سلامتی والے دل کے۔
Akhtar N Janjua
http://anjanjua.blogspot.com
سجنو تے بیلییو ۔ سلامتئِ جان و مال و عزت و عیال کے لئے ڈھیروں دعائیں۔
حالات و واقعاتِ عصری ماضی کی وادیوں میں پانچ چھ عشرے پیچھے لے گئے۔ کیسے ادوار و اطوار و کردار بدل گئے ہیں۔ ’تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا‘۔لیکن چھوڑیئے یہ تو ہم سب دیکھ بھی رہے ہیں اور بُھگت بھی۔
بات کرتے ہیں ایسی جو سچی بھی ہو اور اُس میں سبق بھی ہو سوچ والوں کے لئے۔
سادہ زمانے، سادہ غذائیں، جفا کش و کسرتی لوگ۔ کھیڈیں بھی سادی اور زندگی سے بھرپور۔ بچےکھیلتے تھے،بنٹے، اخروٹ، اِٹی ڈنڈا، چھپن چھوت، دھدی پھیتا تے گاڈی چلوت۔
بڑوں کی کھیڈیں بھی بڑی ہوتی تھیں۔ وٹا چُکنا، گولہ سُٹنا،جپھا گھتنا، ہڑپہ مارنہ تے کبڈی (اس وقت دی کوڈی تے کوڈی وی لمی کوڈی)۔
بھایئوں کی ایک جوڑی بڑی مشہور تھی دور دور تک۔ کھیلتے بھی تھے، مارتے بھی تھے اور ہر حال میں جیتتے بھی تھے۔
دور و نزدیک میں ان کا کوی مقابل ہی نہیں تھا۔ پِڑ لگتے تھے، ڈھول بجتے تھے، جوڑیاں آتی تھیں، مار کھاتی تھیں، ہاتھ ملاتی تھیں اور پھر آنے کے لیے چلی جاتی تھیں۔
اس دوران ایک گاوں (میرے اپنے گاوں) سے نوجوان بھائیوں کی ایک جوڑی کا چرچا ہونے لگا کہ باری بھی اچھی لیتے تھے، تھپڑ کھاتے بھی تھے اور چنڈیں مارتے بھی خوب تھے۔ جہاں تک پکڑنے کا تعلق تھا تو کوی بچ نہیں سکتا تھا۔ پکڑ لیتے تھے تو سامنے والے کھڈیار کو بتلا دیتے تھے کہ ’جندرا لگ گیا ای تے کنجیاں لاہور نی‘۔
مشہوری ہوی تو منی پرونی وڈی جوڑی تک گل پہنچی۔ حیرانی بھی اور پریشانی بھی کہ ایہہ کتھوں آ گئے نیں۔
چیلنج آ گیا۔ دن بندھ گیا، منادی ہو گئی، پورا علاقہ آ گیا۔
پڑ لگ گیا، گولہ وج گیا، وڈی ٹیم دے وڈے کھلاڑی آکھیا آو بچیو مینوں پکڑو جے پکڑ سکدے او۔ پٹ تے ہتھ مار کے آگے ہوا تو نوجوان پل پڑے اور منٹوں میں ڈھا لیا۔
اب باری دوسری جوڑی کی آی تو بڑا نوجوان باٹ دینے کے لئے میداں میں آ گیا اور پرانی ٹیم کے دونوں بھای اسے ڈھیر کرنے کے لیے نکلے۔ نوجوان قد آور بھی تھا اور بہادر بھی، اس نے دونوں ہاتھوں سے پکڑنے والوں پر تھپڑوں کی یوں برسات کی کہ پل میں سماں تبدیل ہو گیا۔ یہ آگے ہوں وہ مارنے کے لیے بازو اٹھاے تو یہ جھجھک کر کھڑے ہو جائیں۔ کچھ دیر جب یوں ہی ہوتا رہا تو اچانک ایک بارعب بزرگ اٹھے اور انہوں نے آواز لگای ذرا رکو۔
تینوں کھڈیار کھڑے ہو گئے، بزرگ میدان میں گئے، سر سے پگ اتاری اور اس نوجواں کھلارٰی کے ہاتھ اور پاوں باندھ دیئے۔ پرانے کھلاڑیوں کو کہا اسے ویسے تو پکڑنا تمھارے لیے ناممکن ہے اب اس کے ہاتھ اور پاوں بندھے ہیں اب گرا لو۔
حیا اور وفا والا ذمانہ تھا۔ وہ آگے بڑھے نوجوان کو جپھا ڈالا، اس کا ہاتھ کھڑا کیا اور اپنے لنگوٹ کھول دیے کہ ’اج توں ساڈی بس‘ ہن تسی کوڈی کھیڈسو تے اسیں تہانوں کھیڈدیاں تکساں۔
لیکن تب تب تھا اور اب اب ہے۔
مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ رُوپ بگڑ گیا
جو خزاں سے باغ اُجڑ گیا میں اُسی کی فصلِ بہار ہوں
Akhtar N Janjua
http://anjanjua.blogspot.com
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡل.
(Indeed Allah Commands you to return Trusts to their owners, and when You Judge between people; Judge with Fairness.) Alnisa-58
Any era, any society, any civilisation ... A corrupt judiciary, marked by egregious decisions, has always cast the dark shadow over the pillars of justice, fabric of society and the very existence of the State. When those entrusted with upholding the law succumb to pressure, coercion, corruption and political wheeling dealing, the consequences reverberate with a chilling resonance. Horrendous decisions emanating from a compromised judiciary erode the public trust in the legal system; the yield many-a-times has been dire and murderous.
... Because ...
The skewed dispensation of justice, driven by ulterior motives, undermines the principles of fairness, equality, and accountability، above all is the explicit violation of Allah's Commandments. Such a betrayal of the judicial mandate perpetuates injustice, corroding the foundational values upon which a just and civilised society could thrive ...
Invariably injustice leaves behind a trail of societal disquiet and a compromised pursuit of truth and justice.
وہ دو جہاں کا مالک
سب حال جانتا ہے
نیکی اور بدی کے
احوال جانتا ہے
دنیا کے فیصلوں سے
مایوس جانے والا
ایسا نہ ہو کہ اُس کے دربار میں پکارے
ایسا نہ ہو کہ اُس کے انصاف کا ترازو
اک بار پھر سے تولے
مجرم کے ظلم کو بھی
منصف کی بھول کوبھی
اور اپنا فیصلہ دے
وہ فیصلہ کہ جس سے
یہ روح کانپ اُٹھے
Akhtar N Janjua
http://anjanjua.blogspot.com
In any democratic society, the relationship between the People and their Institutions is built on a foundation of trust. It is this trust that sustains the delicate balance between governance and the governed, ensuring the smooth functioning of a State. However, when Pivotal Institutions lose the trust of the people, a corrosive process begins—one that may have far-reaching consequences for the Society and the State.
A fundamental tenet of democracy is the idea that Institutions, Governmental, Judicial, and Administrative, exist to serve the State and the Citizens. When these Institutions fall short of their intended purpose, the impact is profound. The erosion of trust begins subtly, with instances of perceived negligence, corruption, or a failure to uphold the principles upon which they were founded.
Repeated failure to meet the expectations of the people, sow the seeds of a palpable sense of disillusionment. Citizens, once hopeful and engaged, may find themselves harbouring sentiments of resentment, frustration, and, in extreme cases, outright hatred toward the very entities entrusted to serve and protect them. This is not a mere expression of dissatisfaction; it is a profound betrayal of the social contract, the implicit agreement between the State, State Servants and the Citizens.
The consequences of such a breakdown in trust are manifold. Social cohesion, a crucial element for the smooth functioning of any society, begins to unravel. Divisiveness takes hold, as Citizens question the legitimacy of Institutions and the fairness of the system. A sense of alienation sets in, with individuals feeling detached from the structures that were meant to represent and protect their interests.
In the political sphere, the consequences can be particularly dire. Distrust in Institutions can lead to a decline in civic participation, as people disengage from the democratic process, believing their voices hold little weight. This apathy can pave the way for populist movements, fueled by the vacuum left by institutional distrust. In extreme cases, the erosion of trust can even lead to civil unrest, as citizens, feeling betrayed and unheard, resort to more drastic means of expressing their discontent.
Addressing the erosion of trust in Premier Institutions requires a multifaceted approach. Transparency, Accountability, and a Commitment to the Principles of Justice and Fairness are essential to rebuilding the shattered foundations of trust. Institutions must actively work to regain the confidence of the people by demonstrating a genuine dedication to the Constitution, Rule of Law, Sincerity of Purpose and Common Good.
BOTTOMLINE - NURTURING AND SAFEGUARDING TRUST IN INSTITUTIONS (AT ALL COST) IS AN INVESTMENT IN THE STABILITY AND PROSPERITY OF THE STATE AND PEOPLE.
Akhtar N Janjua
http://anjanjua.blogspot.com
Long Time Friends ...
A whole lot happening world over ... Brute Power vs Helpnessness ... Doors Closed ... Windows Shut ... Eyes Dazed ... Ears Erased ...
Just a Reflection what Past Says ....
Within the annals of history, the intricate dance of power dynamics unfolds with consequential gravity. One Man or An assembly of few robust individuals, intoxicated by the formidable might at their disposal, weaves a disquieting narrative marked by transgressions against established orders, legal standards, moral principles, and ethical values. Resistant to reason and impervious to sound counsel, systematically obliterating any rational discourse challenging the drowning dominance ...
Then, as the inexorable wheel of time turns, the reckoning arrives ...
These once-mighty entities, plummet precipitously, accompanied by the unfortunate collapse of the entire edifice they once wielded (Natural Phenomenon). This historical recurrence (innumerable times) through ages, destroyed all such ruthless dispensations and dispensers.
Alas ... Despite very vivid precedents and lessons thereof, humanity persistently retraces this cyclical pattern, raising the haunting question:
When will we humans, glean wisdom from the rise and fall of brute power dynamics across the time?
Akhtar N Janjua
" ایسا کرنا بہت ضروري ہے”۔
ہر ظلم، تذلیل اور انسانیت کی تدفین کے لیے سب سے بڑا ہتھیار۔
یہ ظالموں کی ابدی دلیل اور غلاموں کا مقدر نوشتہِ جابراں۔
شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی؟
گذرے چند ایام سفر میں گذرے۔ چہار اطراف بے آب و گیاہ زمین کہ گندم کی بوائ کے لیے تیار پڑی ہے، دھندلکی فضا، تحیر و خوف زدہ لوگ، افسردگی بے پناہ؛ اکثر کی زبان پر سوال و جواب ”خبرے کی بنسی“۔
چونکہ اکثریت کو اپنی پڑی ہے اس لیے ’فلسطینی یلغار‘ سے نا بلد و بے سروکار۔ میں بھی فلسطینیوں کو اتنا ہی کہوں گا کہ:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
سفر کی بات تو رستے وہی، لیکن ماحول بدلا بدلا ۔ بل بور ڈ پرانے، سپانسر بھی پرانے لیکن ’سپلیش‘ نئے۔ گرد و زنگ آلود تصویریں باہر نکل آئ ہیں؛ موقع پرستی، گردن ماری، جھوٹ اور سچ کی تفریق سے عاری ۔ ۔ غلامانہ ذہنیت ڈھٹائ سے محو، رقصِ عریاں ۔ ۔ پرسوں جس کو گالی دی تھی، آج کا محبوب کیونکہ ہوا (و ہوس) پھر غلاضتیں بکھیرنے پر آمادہ۔ کل کے محبوب آج کے معتُوب (عین ممکن کہ آنے والے کل پھر بن جائیں معشوق)، کہ ”غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر“، انا للہِ و انا ۔ ۔ ۔ ۔
روتی اور رُلتی قوم کو کون پوچھتا ہے ۔۔۔ اور جو چوٹی کے اوپر:
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
سبق یہی پڑھا ہے اور قوم کو بھی یہی پڑھانا ہے:
جھوٹ کو سنگھاسن پر بیٹھانا ہے
سچ کوسولی پہ چڑھانا ہے
قوم جاے بھاڑ میں
ذات کو بچانا ہے خاندان کھرب پتی بنانا ہے
دشمن تو اپنا دوست ہے
دو قومئ نظریہ ایک افسانہ ہے
کون اقبال، کس کا ’قائد‘،
پرانے بیت گئے، یہ نیا زمانہ ہے
نئے اطوار، نئے طریق
ہر ”نقشِ کُہن“ کو مٹانا ہے
" ایسا کرنا بہت ضروري ہے”، ہر ظلم، تذلیل اور انسانیت کی تدفین کے لیے سب سے بڑا ہتھیار۔
یہ ظالموں کی ابدی دلیل اور غلاموں کا مقدر نوشتہِ جابراں۔
شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی؟
Akhtar N Janjua
http://anjanjua.blogspot.com