AKHTAR N JANJUA

Allah created humans from a male and a female and made into tribes and nations for identification. However the most righteous is the most honoured. No Arab has any superiority over a non-Arab nor is a White any way better than a Black. All created beings are the decendants of Adam and existence of Adam sprang from dust. hence all claims to superiority and greatness, all demands for blood or ransom and all false traits or trends of rule are false.

Breaking

Friday, September 30, 2022

7:03 AM

گوارا تے کنک ۔ ۔ ۔

 سلام اور ڈھیروں دعائیں ۔ ۔ ۔



کل کافی دنوں کے بعد صاحب ِ حال کی کال آی۔ کہنے لگے اپنی صحت کا خیال رکھا کر۔ پرانے اعضا ایذا کا باعث بن سکتے ہیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور دعاوں کی درخواست کی۔ کہا دعائیں سب کے لیے۔ میں نے عرض کی کچھحالات پر فرمائیے تو بولے چھیڑ خانی سے باز کیوں نہیں آتے ہو? میں بولا چھیڑ خانی نہیں آپ با خبر ہو صاحبِ نظرہو اس لیے خلوصِ دل سے پوچھتا ہوں۔ دوسری طرف کچھ کیفیت بدلی، لہجہ جلالی ہوا اور گویا ہوے، 

“بُوجیاں دےہتھ اُسترے بہوں خطرناک ہوندے نیں۔ انہاندی اپنی دھون تے دوجیاں دے نک، کن، تے دون سب خطرے وچ”۔ 


عرض کی میں سمجھا نہیں، تو جواب آیا  ناسمجھی ہی تو اس قوم کو گھن کی طرح کھا گئی ہے۔

 

“گڈیندے  گُوارا  او  تے  کنک چان  آسطے  بھڑولے  تے  سکاریں  تیار کرن لگ پوندے او،  فیر جدوں گوارے نال کھرکاں تے دھدر نکلدے نیں تے آکھدے اوسمجھ نئیں آی”۔ 


کہنے لگے قرانِ مجید کھولو،  سورہ رعد کی آیت گیارہ پڑھو، کہہ رہی ہے مجھے سمجھو اگر قلب و روح و دیدہِ عبرت نگاہ رکھتے ہو۔


"اللہ کریم قوموں کے حالات و معاملات میں تبدیلی نہیں لاتا جب تک وہ قومیں اپنی روش و راہ میں خود تبدیلی نہیں لاتیں اور جب وہ کسی قوم کو عذاب کا مستحق قرار دے دیتا ہے تو وہ نہ ٹل سکتا ہے اور نہ اس قوم کی کوی اور مدد کر سکتا ہے"۔


مشاہدہ کرو کیسے کیسے عذاب انسانوں کے روپ میں اس قوم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں، انہونیاں نہیں ہو رہیں اور لاچاری کا عالم یہ ہے کہ سب کچھ دیکھتے ہوے کوی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔


تاں فون کھڑک کر کے بند کر دتا۔ 


ویسے تہانوں کجھ سمجھ آیا اے؟



کہاں ہے ارض و سما کا مالک کہ چاہتوں کی رگیں کریدے

ہوس کی سُرخی رُخِ بشر کا حسین غازہ بنی ہوئی ہے


کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے، کوئی تو چارہ گری کو اُترے

اُفق کا چہرہ لہو میں تر ہے ، زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے 





  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz


Sunday, September 11, 2022

12:40 PM

11 SEPTEMBER - IN MEMORY OF 'THE GREATEST EVER PAKISTANI' THE INCOMPARABLE QUAID



ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اُٹھا

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اُٹھا


His name is carved on the hearts, his legacy is etched in the minds and history bears witness to his greatness. To quote Stanley Wolpert  “Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation-state. Mohammad Ali Jinnah did all three.” 


Few more …


“Although without Gandhi, Hindustan would still have gained independence and without Lenin and Mao, Russia and China would still have endured Communist revolution, without Jinnah there would have been no Pakistan in 1947.” 

– John Biggs-Davison


“Jinnah is one of the most extraordinary men in history.” 

~ Jawaharlal Nehru


“The tallness of the man, the immaculate manner in which he turned out, the beauty of his features and the extreme courtesy with which he treated all; no one could have made a more favourable impression than he did. There is no man or woman living who imputes anything against his honour or his honesty. He was the most outright person that I know.” 

~ Sir Patrick Spen, the last Chief Justice of United India.


تیرے جہے پُت جمن ماواں کدھرے کدھرے کوی ۔ ۔ ۔


Revered Quaid ... We share your thoughts and principle with the people and posterity BUT UNFORTUNATELY WE NEVER FOLLOW YOU ............. 


THE TIME, HOWEVER, CERTAINLY SHALL COME WHEN WE AND IF NOT WE ......... THEN COMING GENERATIONS WILL RELIVE YOUR LEGACY AND SOLMENLY PRACTICE THE HIGHEST STANDARDS YOU STOOD FOR.'



راندہِ درگاہِ خداوندی رہ گئے اور منظورِ بارگاہ چلا گیا۔ 


آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے ۔




  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz





 

Sunday, July 17, 2022

1:06 PM

عمل اور راہِ عمل

سلام ۔۔ 


الله کریم جميع مسلمين و مسلمات کی مغفرت فرماے جو دارِ ابد ی کے مکین ہیں، ایمان و علم و عمل و تدبر سے نواز ے اُن کو جو دارِ فانی میں موجود ہیں  اور قیامت تک آنی والی ارواح کو راہِ صحیحہ کا ادراک دے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین، رحمت العالمیں ﷺ۔


عید والے دن ہماری چھوٹی بہن اللہ کریم کے حضور حاضر ہو گئیں (انا للہ و انا الیہ راجعون) ۔ ڈھیروں دعائیں اور تہہِ دل سے ممنون ہیں عزیز و اقارب، احباب و مخلصین کے جنہوں نے دور و نزدیک سے خود  آ کر یا بذریعہِ فون ارسالِ ثواب کیا اور ہمارا غم بانٹا۔


انہی محافلِ ارسالِ ثواب کے دوران بہت سارے صاحبانِ دانش و مشاہدہ کی صحبت نصيب ہوی، زہے نصيب۔ ایسی ہی ایک اختصاصی نشت میں تین انتہای محترم اور جہاندیدہ صاحبان کی علمی گفتگو سے  فیضیاب ہوا۔ عالمِ اسلام کی زبوں حالی اور قحط الرجال  کی بات چل رہی تھی۔ حاصلِ گفتگو تھا کہ یہ وقت ہے عمل کا کردار کا، گفتار بہت ہو چکی۔ روحانیت اور عملیت کا تذکرہ ہوا کہ:۔


 عمل، روح کی ترویج و افزائش و رہنمای کے بغیر ایسے ہے، جیسے کوی آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی چلانا شروع کر دے ، حادثہ اور المناک انجام یقینی ہے۔

بے عمل روحانیت ایک مردہ  درخت کی طرح ہے جو نہ پھل دے نہ سایہ، صرف جلنے اور جلانے کے کام آ سکے۔

علم دونوں یعنی عمل و روحانیت کے لیے لازم کیونکہ بغیر علم نہ روح کی افزائش ہو سکتی ہے اور نہ عملِِ کار آمد۔


سچ پوچھیں تو آج ہمیں علم و روحانیت کے موضوعات پر زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے ۔


کیونکہ اِنہی سے قلب و باطن کا نظام اُستوار ہوتا ہے۔


دُنیاءِ  رُوح و عمل اس سے جگمگاتی ہے۔


عمل و روحانیت قال سے نہیں حال سے عبارت ہیں ۔


حصولِ علم ضروری اور اس کے ذریعہ حاصل شدہ روحانیت ہی ارفع و نافع عمل کا باعث۔ یہ صرف علمی نظریے کا نام نہیں بلکہ عملی تجربے کی چیز ہے۔


اور یہ تجربہ بھی مادی نہیں سراسر باطنی ہے۔


روحانیت و تحریکِ عمل تقریر و ابلاغ  کے حسی و مادی تاروں سے نہیں بلکہ پاکیزہ علم کی موجوں میں پنپتی ہیں ۔


یہ الفاظ کے قالب میں نہیں سماتیں  بلکہ احساس کی گہرایئوں میں نشو و نما پاتی ہیں ۔ یہ صرف کہنے سننے کی نہیں بلکہ  سیکھنے اور برتنے کی چیزیں ہے ۔


المختصر روحانیت تزکیئہِ نفس، تصفیئہِ باطن اور بالیدگیئِ روح کا الوہی انداز اور وصولیئِ الی اللّٰہ کا باطنی وپوشیدہ راز ہے، عمل جس کے لیے لازم اور علم شرطِ اولیں ۔


سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :۔


“اِ ذا اَرذَلَ عبدًا حظَرَ علیہِ العلم”

اللہ کریم جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اُسے علم سے محروم کر دیتا ہے۔ 


الله کریم ہمیں حصولِ علم کا شوق ، روح کی ترویج و افزائش کا ذوق اور عملِ مسلسل کی توفيق عطا فرماے۔ آمین





  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz


Saturday, June 25, 2022

7:12 PM

The Game Masters Play




Centuries Old Game -

Takeaway Sense of Values. 

Make Lies the Ultimate Weapon - Speak, Repeat and Keep On ...

Cull the Capacity to Think, Infer, Analyse and Act.   

Without denying the Conception of Honesty, Transparency & Merit, Violate these overtime to Bury them Forever.  

Enshrine Mediocrity. 

Infringe upon the Respect of Respectables.

Poison Happiness; Happy People tend to be Free. 

Kill the Joy in Living. Take away whatever is Dear or Important. 

Never Let People have what They Want. Bring them to a state where saying ‘I Want' is no longer a Natural Right, but a Shameful Act of Begging. 

Propel the Polarising Pools - Sponsor Octopuses, ALL TENTACLES and LITTLE BRAINS.

Take away Souls and Brains of the people, Create Emptiness and Vacuums - Vacuums are always filled That is Nature, Utilise the Space and Fill it with Your Dogma of Deceit, Lies, Corruption, Coercion, Annihilation and Enslavement. 

Physical Slavery is Repulsive, However Much More Repulsive is the Servility of the Spirit


Spirit Poses the Biggest Danger - Annihilate the Spirit


جسم چاہے غلام ہو جائے

ذہنیت کو مگر غلام نہ کر



Akhtar N Janjua



Thursday, June 9, 2022

9:26 PM

ارسالِ ثواب ۔ ۔ ۔

 دوستو  میں نے ابھی رسولِ پاک ﷺ کے حضور ارسال ثوابِ کلام و طعام  پیش کیا ہے   اور آپ ﷺ کے واسطہِ جلیلہ سےجمییع مسلمین و مسلمات جو جا چکے ہیں جو موجود ہیں اور  جویوم الدین تک آنے ہیں  اُن سب پر اس ثواب کو عام کیا ہے۔

احباب میں سے بہت سارے ایسے ہوں گے خصوصا وہ جو پچاس اور ساٹھ کی دہائ میں  پیدا  ہوےجنھوں نے  ہر جمعرات کی شام کو گھر کے سب سے بڑے بزرگ مرد و عورت کو کھانے، دودھ اور نمک پر ارواح (ارسالِ ثواب) پڑھتے ہوے سنا دیکھا ہو گا۔ بہت ساری پرانی ریتیں متروک ہو چکی ہیں، ‘پکی روٹی’ بچیوں کو اب پڑھای نہہیں جاتی، ارواح پڑھنے کا رواج بھی شاید ختم ہو چکا۔ میرے ذہن میں ارواح کے چندخوبصورت الفاظ موجود ہیں۔ سوچا دوستوں سے شیئر کروں اس طرح یہ الفاظ محفوظ بھی ہوجائیں گے۔



بسم الله الرحمن الرحيم

ربا بھیج ثواب  توں اِس کلام طعام

اُپر روح رسول  تے ہور  مُرسل نبی تمام


بعد اُنہاں دے یار جوخاص نبی  دے چار

بعد اولاد، ازواج نبی دے تے کُل اصحاب کُبار


بعد اُنہاں دے حسن، حسین جو علی فرزند

وت کُل شہیداں کربلا، درجے جنہاں دے بُلند


بعد انہاں دے تابعين، کُل ولی، امام

ابو حنیفہ، شافعی، مالک، احمد نام


وت بغدادي پیر نوں جو  سر  پیراں  پیر

جیلانی محی الدين جیندی شان کبیر


کُل غوثاں قطباں بھیج توں تے ہر ولی ابدال

کُل عالم، حافظ، قاری تے ہر ہر اُمتی نال


ماں باپ، اُستاداں سارے تے کُل قبیلے خویش

ہر غنی، فقیر،  تے پچھے کُل درویش 


کُل مومن مرداں عورتاں جو وچ دین اِسلام

آدم توں اِس دم تائیں جو ہوے روح تمام


فر بھیج ثواب پیغمبر  تائیں نالے بہت درود

اول آخر، ظاہر باطن، اے میرے مقصود


ثواب جے میں نوں حاصل ہویا، یا رب توں پہچائیں

نامِ نبی، طفیلِ محمد  کر قبول دعائیں


ہو سلتا ہے یہ ارواح نامکمل ہو اگر کچھ اور ہو   اور کسی دوست کو یا ان کے کسی بزرگ کو یاد ہو تو براہِ کرم کمنٹس میں لکھ دیجیے۔


جزاك الله تعالى فی الدنیا والآخرة خیرا ۔



  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz

Tuesday, June 7, 2022

10:34 PM

ظاہری سراب ۔ باطنی حجاب - بابوں کا اضطراب


تقریباࣿ چالیس سال پہلے میں نے سفرِ جُستجُو شروع کیا، بڑے صاحبانِ حکمت (کچھ اصلی، کچھ فصلی، کچھ نسلی، کچھ بردبار، کچھ ریاکار) سے ملنا ہوا، سب نے کمال شفقت فرمای۔ کچھ کو نزدیک سے دیکھا تو گِھن آی، کچھ سے بن آی، کہیں عقیدت بڑھی اور کہیں ٹوٹ گئی ساری لڑی۔ 

سارے صرف بابے لیکن ایک کو میں کہتا ہوں بابا جی۔ اکثر جذب و جلال کی حالت لیکن باتیں رمزیہ اور باکمال۔ 


اس سال جنوری کے آغاز میں بابا جی سے فون پر بات ہوی۔ عجیب سی کیفیت میں تھے، خود کلامی کے سے انداز میں بولے، سنبھل جاؤ، سمجھ جاؤ، نہیں تو بہت پچھتاؤ گے۔ میں نے عرض کی بابا جی کچھ غلط ہو گیا کیا؟ 


کچھ غلط؟ نیتوں میں کھوٹ، اعمال میں ریا، ذات کی جلا، سازشوں کی ہوا، ضمیر، خمیر، وطن و ایمان سب داؤ پر۔ 


اُٹھو، اُڑو اور اپنے گھونسلے کی راکھی کرو ورنہ تنکے اُڑ جائیں گے۔ میں نے کہا کچھ سمجھ نہیں آئ، کہا  سب سمجھتے ہو لیکن سمجھنا چاہتے نہیں ہو۔ 


سُنو مارچ میں مارچ ہو گا۔ چوتھے میں چوتھا ہو جاے گا۔ آے گی مئی تو بد بُو دے گی لئی اور خون  چوسے گا جُون۔ 


میں نے کہا بابا جئ لگتا ہے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، سب منفی، اتنی قنوطیت؟ 


بس بابا جی جلال میں آگئے، کہا آج کے بعد بات نہیں، ہمیشہ تنقید، بات کو سمجھنا نہیں۔ بس مُک گئی “کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا” اور فون بند کر دیا۔ 


جب واقعات کی رونمای ہونے لگی تو تین چار دفعہ فون ملایا ہمیشہ کاٹ دیا۔ کل اچانک ہی بابا جی کی کال آی فورا اٹھای۔ کہا مڑ کے دیکھا تک نہیں بڑے غالب بنے پھرتے ہو، “سبکسر ہو کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو”۔ 


میں نے عرض کی کہ کئی دفعہ فون کیا لیکن آپ نے کاٹ دیا۔ وہ تو میں چاہتا تھا آپ خود آو۔ میں نے کہا معذرت خواہ ہوں۔ کہنے لگے کیا آپ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ عرض کیا اتنے دُور سے میں کیسے دیکھوں؟  


فرمایا او ظاہر بین باطن کی نگاہوں سے دیکھ، اندر توجہ کر، بصیرت و بصارت بڑھا، کثافت دور کر، نظر آے گا۔ اور نہیں نظر آ یا تو سن اور غور کر شاید کہ اُتر جاے تیرے دل میں میری بات۔ 


ڈاچی چڑھ گئی آ  ٹاہلی تے۔ 


کھوتَیاں  نوں پر لگ گئے پئے کردے اُجاڑے نی۔ 


تے فون ٹھک کر کے بند کردتا۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوی۔ پلے تے کجھ نئیں پیا، صرف سوچاں ودھ گیاں نیں، ڈاچی ٹاہلی تے کیویں چڑھی تے کھوتَیاں نوں پر کیویں لگے۔ 


تسیں کجھ سمجھے او؟؟؟


  AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz