Tuesday, March 13, 2018

کاٹنا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سلام اور ڈھیروں دعائیں ۔ ۔ ۔

اللہ کریم نے بنی نوعِ انسان کو خلیفتہ الارض بنایا ۔ ۔ ۔ بصیرت سے نوازا اور اغلب تعداد کو بصارت بھی عطا فرمائ ۔ ۔ ۔اکثر دیکھنا صرف پسندیدہ چاہتے ہیں اور معدودے بصیرت کو استعمال کرنے کی توفیق مانگتے ہیں اللہ کریم سے، اور اس سے کام بھی لیتے ہیں ۔ ۔ ۔

قانونِ فطرت ہے، بویا جانے والا اُگتا ہے اور کاٹنا بھی پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ بوتے ہوے دیکھنا چاہیے کہ،پودا سایہ دار ہوگا یا خاردار، پھلدار ہو گا یا مردم بیزار ۔ ۔ ۔

کاٹنا پڑتا ہے :۔

جدہ ہو یا جیوانی

لندن ہو یا للیانی

چولستان کے ریگزار ہوں

سوات کے مرغزار ہوں

چھانگا مانگا کا جنگل ہو

اسلام آباد کا منگل ہو

جو بویا سو کاٹا ۔ ۔ ۔ 

وقتی انفرادی فائدہ ۔ ۔ ۔ اوں ہوں

طویل المیعاد اجتماعی فلاحی فعل ۔ ۔ ۔یہاں بھی سرخروئی وہاں بھی فوزالکبیر۔ ۔ ۔

سمجھ لیں تو فائدہ نہیں تو استغاثہ ۔ ۔ ۔

اور ۔ ۔ ۔

سیاست کی نئی جہت ۔۔۔
تعن و تشنیع و دشنام طرازی کے بعد
‘پاپوش بازی و سیاہی کاری’
قابلِ مذمت ۔ ۔ ۔ 
۔ ۔ ۔لیکن ۔ ۔ ۔
محرکات و وجوہات کا ادراک بھی بہت ضروری ہے۔






AKHTAR N JANJUA

http://anjanjua.blogspot.com/
http://www.facebook.com/akhtar.janjua
https://twitter.com/IbneNawaz
janjua17686.wordpress.com 

No comments:

Post a Comment