Friday, June 17, 2016

خون ناحق کہیں چھپتا ہے چھپائے سے امیرؔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آج کچھ لوگ گھر نہیں آئے
کھو گئے ہیں کہاں، تلاش کرو

دامنِ چاک کے ستاروں کو
کھا گیا آسماں تلاش کرو

ناتواں زیست کے سہاروں کو
یہ جہاں وہ جہاں تلاش کرو

گیس آنسو رلا رہی ہے غضب
چار جانب پولس کا ڈیرا ہے

گولیوں کی زبان چلتی ہے
شہر میں موت کا بسیرا ہے

کون دیکھے تڑپنے والوں میں
کون تیرا ہے کون میرا ہے

آج دیکھو نیاز مندوں کو
خون ناحق کے داد خواہوں میں

سرنگوں اور خموش صف بستہ
کتنے لاشے لیے ہیں باہوں میں

آستینوں کے داغ دھو لو گے
قاتلو آسماں تو دیکھتا ہے

چین کی نیند جا کے سو لو گے
تم کو سارا جہاں تو دیکھتا ہے

قسمت خلق کے خداوند
تم سے خلقت حساب مانگتی ہے

روح فرعونیت کے فرزندو
بولو بولو۔۔۔۔۔۔جواب مانگتی ہے

No comments:

Post a Comment