Monday, July 14, 2014

روحانیت !


سچ پوچھیں تو آج ھمیں روحانیت کے موضوع پر زیادہ حساس ھونے کی ضرورت ھے ۔

، کیونکہ روحانیت سے قلب و باطن کا نظام اُستوار ھوتا ھے

دُنیائِ روح اس سے جگمگاتی ھے ۔



روحانیت قال سے نہیں حال سے عبارت ھے ۔

، یہ صرف علمی نظریے کا نام نہیں بلکہ عملی تجربے کی چیز ھے

اور یہ تجربہ بھی مادی نھیں سراسر باطنی ھے۔



روحانیت تقریر و ابلاغ کے حسی و مادی تاروں سے نہیں بلکہ گرمیِٔ انفاس کی پاکیزہ موجوں میں پنپتی ھے ۔

یہ الفاظ کے قالب میں نہیں سماتی بلکہ احساس کی گہرایئوں میں نشو و نما پاتی ھے ۔



روحانیت صرف کہنے سننے کی چیز نہیں بلکہ سیکھنے اور برتنے کی چیز ھے ۔



المختصر روحانیت تزکیئہِ نفس، تصفیئہِ باطن اور بالیدگیئِ روح کا الوہی انداز اور وصولیئِ الی اللّٰہ کا باطنی و پوشیدہ راز ھے ۔

No comments:

Post a Comment